Qaaloo yaa Saalihu qad kunta feenaa marjuwwan qabla haazaaa atanhaanaaa an na`bu da maa ya`budu aabaaa`unaa wa innanaa lafee shakkim mimmaa tad`oonaaa ilaihi mureeb
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
انہوں نے کہا کہ صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں؟ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہ ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفتند: اى صالح، پيش از اين به تو اميد مىداشتيم. آيا ما را از پرستش آنچه پدرانمان مىپرستيدند بازمىدارى؟ ما از آنچه ما را بدان مىخوانى در شكّيم.
مَرْجُوًّا: وہ شخص جس سے بڑی امیدیں وابستہ ہوں، جسے قوم کا سردار اور عقلمند خیال کیا جائے۔
مُرِيبٍ: شک و شبہ میں ڈالنے والا، جس سے دل کو قرار نہ آئے اور بے چینی پیدا ہو۔
تفسیر:
جب حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم ثمود کو توحید کی دعوت دی اور انہیں شرک سے روکا تو ان کی قوم نے تعجب اور انکار کے انداز میں کہا: اے صالح! ہم تم سے بہت امیدیں رکھتے تھے، تم ہمارے نزدیک ایک معزز، عقلمند اور سمجھدار شخص تھے، ہم تمہیں اپنا سردار بنانا چاہتے تھے۔ لیکن اس دعوت سے پہلے تم ہماری نظر میں قابلِ احترام تھے، اب تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتے ہو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں؟ یہ سن کر انہوں نے مزید کہا: ہم تو اس چیز کے بارے میں جس کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت، سخت شک اور تردد میں ہیں، یہ دعوت ہمارے دلوں میں بے چینی اور اضطراب پیدا کرتی ہے، ہم اسے یقین کے ساتھ قبول نہیں کر سکتے۔
یہ وہی انداز ہے جو ہر دور کے مشرکین اپنے انبیاء کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ وہ حق کو قبول کرنے کے بجائے اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو دلیل بناتے ہیں اور انبیاء کی دعوت کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن غور کیجیے! حضرت صالح علیہ السلام نے ان کی اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا کہ تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے، بلکہ انہوں نے انہیں اللہ کی قدرت کے نشانات کی طرف متوجہ کیا، کیونکہ حق کی پہچان کا معیار آباء کی تقلید نہیں بلکہ دلیل اور بصیرت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ ایک اہم سبق یہ ہے کہ حق کو قبول کرنے میں آباء و اجداد کی تقلید رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے بزرگوں نے اگر شرک یا بدعت کی راہ اختیار کی ہو تو ہم ان کی تقلید میں جہنم کا راستہ نہیں اپنا سکتے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ داعیِ حق کو چاہیے کہ لوگوں کے طعن و ملامت اور ان کے شکوک و شبہات سے گھبرا کر اپنی دعوت نہ چھوڑے، بلکہ حکمت اور صبر کے ساتھ اپنی بات پیش کرتا رہے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ جب کوئی شخص حق کی دعوت دیتا ہے تو لوگ اس کی سابقہ عزت کو بھول جاتے ہیں اور اس پر الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں، لیکن یہ آزمائش ہے جو مخلص داعیوں کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
انہوں نے کہا کہ صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں؟ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہ ہے
تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے
انہوں نے کہا کہ صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں؟ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہ ہے
صالح نے کہا اے قوم! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اس کے سامنے میری کون مدد کرے گا؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو
اور یہ بھی کہا کہ اے قوم! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔