Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
﴿قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَٰذَا ۖ أَتَنْهَانَا أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ﴾
معانی الفاظ:
- مَرْجُوًّا: وہ شخص جس سے بڑی امیدیں وابستہ ہوں، جسے قوم کا سردار اور عقلمند خیال کیا جائے۔
- مُرِيبٍ: شک و شبہ میں ڈالنے والا، جس سے دل کو قرار نہ آئے اور بے چینی پیدا ہو۔
تفسیر:
جب حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم ثمود کو توحید کی دعوت دی اور انہیں شرک سے روکا تو ان کی قوم نے تعجب اور انکار کے انداز میں کہا: اے صالح! ہم تم سے بہت امیدیں رکھتے تھے، تم ہمارے نزدیک ایک معزز، عقلمند اور سمجھدار شخص تھے، ہم تمہیں اپنا سردار بنانا چاہتے تھے۔ لیکن اس دعوت سے پہلے تم ہماری نظر میں قابلِ احترام تھے، اب تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتے ہو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں؟ یہ سن کر انہوں نے مزید کہا: ہم تو اس چیز کے بارے میں جس کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت، سخت شک اور تردد میں ہیں، یہ دعوت ہمارے دلوں میں بے چینی اور اضطراب پیدا کرتی ہے، ہم اسے یقین کے ساتھ قبول نہیں کر سکتے۔
یہ وہی انداز ہے جو ہر دور کے مشرکین اپنے انبیاء کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ وہ حق کو قبول کرنے کے بجائے اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو دلیل بناتے ہیں اور انبیاء کی دعوت کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن غور کیجیے! حضرت صالح علیہ السلام نے ان کی اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا کہ تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے، بلکہ انہوں نے انہیں اللہ کی قدرت کے نشانات کی طرف متوجہ کیا، کیونکہ حق کی پہچان کا معیار آباء کی تقلید نہیں بلکہ دلیل اور بصیرت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ ایک اہم سبق یہ ہے کہ حق کو قبول کرنے میں آباء و اجداد کی تقلید رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے بزرگوں نے اگر شرک یا بدعت کی راہ اختیار کی ہو تو ہم ان کی تقلید میں جہنم کا راستہ نہیں اپنا سکتے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ داعیِ حق کو چاہیے کہ لوگوں کے طعن و ملامت اور ان کے شکوک و شبہات سے گھبرا کر اپنی دعوت نہ چھوڑے، بلکہ حکمت اور صبر کے ساتھ اپنی بات پیش کرتا رہے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ جب کوئی شخص حق کی دعوت دیتا ہے تو لوگ اس کی سابقہ عزت کو بھول جاتے ہیں اور اس پر الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں، لیکن یہ آزمائش ہے جو مخلص داعیوں کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 60-64 — سورہ ہود
ترجمہ — ہود 62
سورہ ہود آیت 62 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا کہ صالح اس سے پہلے ہم تم…سورہ آیت 62/123 — سورہ ہود هود (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ ہود سنیں, سورہ ہود ترجمہ, سورہ ہود mp3, سورہ ہود pdf. آیت 60–64. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ ہود
قرآن کریم
Tuesday, September 29, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


