Qaala yaa qawmi ara`aytum in kuntu `alaa baiyinatim mir Rabbee wa aataanee minhu rahmatan famai yansurunee minal laahi in `asaituhoo famaa tazeedoonanee ghaira takhseer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
صالح نے کہا اے قوم! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اس کے سامنے میری کون مدد کرے گا؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفت: اى قوم من، چه گوييد اگر از پروردگارم حجتى به همراه داشته باشم و او مرا رحمت خويش ارزانى كرده باشد، چه كسى مرا يارى مىكند اگر از فرمانش سرپيچى كنم؟ اگر از شما فرمان برم جز به زيان من نخواهيد افزود.
صالح نے کہا اے قوم! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اس کے سامنے میری کون مدد کرے گا؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَیِّنَة: واضح دلیل، روشن برہان
رَحْمَة: نبوت، رسالت، اللہ کی خاص رحمت
تَنْصُرُنِی: میری مدد کرو، مجھے بچاؤ
تَخْسِیر: نقصان میں ڈالنا، خسارے میں مبتلا کرنا
تفسیر:
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کے ان لوگوں سے جو ایمان لانے سے انکار کر رہے تھے اور آپ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دے رہے تھے، بڑے پیار اور شفقت کے ساتھ فرمایا: اے میری قوم! ذرا غور تو کرو، اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل اور روشن برہان پر ہوں، اور اس نے مجھے اپنی خاص رحمت سے نوازا ہے یعنی نبوت اور رسالت عطا فرمائی ہے، تو بتاؤ اگر میں اس کی نافرمانی کروں اور تمہیں اس کا پیغام پہنچانے میں کوتاہی کروں، تو اللہ کے عذاب سے مجھے کون بچا سکتا ہے؟ کیا تم مجھے اس کے عذاب سے بچا سکتے ہو؟ ہرگز نہیں! تم تو صرف میرا نقصان ہی بڑھا سکتے ہو، مجھے گمراہی اور خسارے کی طرف دھکیل سکتے ہو۔
یہ وہ عظیم پیغام ہے جو ہر نبی اور ہر داعی حق کے دل میں ہوتا ہے۔ نبی اپنی قوم سے کہتا ہے کہ میں تمہاری خوشنودی کے لیے اپنے رب کی نافرمانی نہیں کر سکتا، کیونکہ میرا اصل محاسب اور میری کامیابی کا فیصلہ کرنے والا اللہ ہے، نہ کہ تم۔ تمہاری مخالفت اور دھمکیاں مجھے حق کی تبلیغ سے باز نہیں رکھ سکتیں۔
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
اول: حق پر ہونے کی دلیل اور برہان ہونا ضروری ہے، محض دعویٰ کافی نہیں۔
دوم: اللہ کی رحمت سب سے بڑی نعمت ہے، اور اس کا تقاضا ہے کہ ہم اس کی اطاعت کریں۔
سوم: مومن کو اللہ کی رضا کو مخلوق کی رضا پر مقدم رکھنا چاہیے۔
چہارم: حق بات کہنے والے کو کسی کی دھمکی سے ڈرنا نہیں چاہیے، کیونکہ اللہ ہی حفاظت کرنے والا ہے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! ہمیں بھی اپنی زندگی میں اس اصول کو اپنانا چاہیے کہ اللہ کی اطاعت اور اس کے احکام کی پیروی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ جو شخص اللہ کی رضا کے لیے کام کرتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت عطا فرماتا ہے۔ کسی انسان کی مخالفت یا ناراضگی ہمیں حق پر قائم رہنے سے نہیں روک سکتی۔ اللہ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمیں صالحین کے راستے پر چلائے۔ آمین۔
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے
انہوں نے کہا کہ صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں؟ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہ ہے
صالح نے کہا اے قوم! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اس کے سامنے میری کون مدد کرے گا؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو
اور یہ بھی کہا کہ اے قوم! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔