Wa kazaalika ba`asnaahum liyatasaaa`aloo bainahum; qaala qaaa`ilum minhum kam labistum qaaloo labisnaa yawman aw ba`da yawm; qaaloo Rabbukum a`almu bimaa labistum fab`asooo ahadakum biwariqikum haazihee ilal madeenati falyanzur ayyuhaaa azkaa ta`aaman falyaatikum birizqim minhu walyatalattaf wa laa yush`iranna bikum ahadaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
همچنين بيدارشان كرديم تا با يكديگر گفت و شنود كنند. يكى از آنها پرسيد: چند وقت است كه آرميدهايد؟ گفتند: يك روز يا پارهاى از روز را آرميدهايم. گفتند: پروردگارتان بهتر داند كه چند وقت آرميدهايد. يكى را از خود با اين پولتان به شهر بفرستيد تا بنگرد كه غذاى پاكيزه كدام است و برايتان از آن روزيتان را بياورد. و بايد كه به مهربانى رفتار كند تا كسى به شما آگاهى نيابد.
اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَعَثْنَاهُمْ: ہم نے انہیں اٹھایا، یعنی نیند سے بیدار کیا۔
لِيَتَسَاءَلُوا: تاکہ وہ آپس میں سوال جواب کریں۔
لَبِثْتُمْ: تم کتنی دیر ٹھہرے (یعنی سوئے رہے)۔
بِوَرِقِكُمْ: تمہارے چاندی کے سکّے (روپیہ)۔
أَزْكَىٰ طَعَامًا: سب سے زیادہ پاکیزہ اور حلال کھانا۔
وَلْيَتَلَطَّفْ: اور چاہیے کہ وہ نرمی اور حکمت سے کام لے۔
لَا يُشْعِرَنَّ: ہرگز کسی کو خبر نہ ہونے دے۔
تفسیر:
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل قدرت سے انہیں نیند سے بیدار کیا، جیسے وہ انہیں سلا کر محفوظ رکھے تھے، اسی طرح انہیں زندہ اور تندرست اٹھایا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں اور اپنے حال پر غور کریں۔ ان میں سے ایک نے پوچھا: "تم کتنی دیر سوئے رہے؟" کچھ نے کہا: "ایک دن یا اس سے کچھ کم۔" لیکن جب انہیں اندازہ ہوا کہ معاملہ غیر معمولی ہے، تو انہوں نے کہا: "ہمارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم کتنی دیر رہے، ہم اسے اللہ کے حوالے کرتے ہیں۔" پھر انہوں نے تدبیر کی اور کہا: "اب اپنے ایک آدمی کو ان چاندی کے سکوں کے ساتھ شہر بھیجو، وہ دیکھے کہ کس کا کھانا سب سے زیادہ پاکیزہ اور حلال ہے، اور وہ تمہارے لیے اس میں سے رزق لائے۔" اور انہوں نے اسے تاکید کی کہ وہ بڑی نرمی، حکمت اور احتیاط سے کام لے، اور کسی کو تمہارے بارے میں خبر نہ ہونے دے، تاکہ کوئی خطرہ یا پریشانی نہ آئے۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرنے کے ساتھ ساتھ تدبیر اور حکمت سے کام لینا بھی ضروری ہے۔ اصحابِ کہف نے اللہ پر توکل کیا، لیکن جب ضرورت پڑی تو انہوں نے اپنے ایک آدمی کو شہر بھیجا، حلال کھانے کا انتخاب کیا، اور احتیاط سے کام لیا۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ دین اور دنیا دونوں میں اعتدال اور حکمت کو اپنائیں، حلال رزق کی تلاش کریں، اور اپنے معاملات میں اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھیں۔ نیز یہ کہ جب بندہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، تو اللہ اسے ایسے حالات سے نکالتا ہے جو عقل سے باہر ہوتے ہیں، جیسے اس قوم کو ایک طویل عرصے تک محفوظ رکھا اور پھر زندہ کیا۔
اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس کو خدا ہدایت دے یا وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے
اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے۔ اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے
اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے
اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ شک نہیں۔ اس وقت لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے۔ جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔