ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لِشَيْءٍ: کسی کام کے لیے۔
- فَاعِلٌ: کرنے والا۔
- غَدًا: کل، آنے والے وقت میں۔
تفسیر:
اے نبی! تم کسی ایسے کام کے بارے میں جو تم کرنے کا ارادہ رکھتے ہو، یہ نہ کہو کہ "میں یہ کام کل ضرور کروں گا"۔ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کل تک تم زندہ رہو گے یا نہیں، اور نہ ہی تمہیں علم ہے کہ کل کیا حالات پیش آئیں گے۔ یہ حکم صرف آپ ﷺ کے لیے نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی کام مستقبل میں کرنے کا ارادہ ہو تو اسے اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق رکھو، یعنی "إن شاء اللہ" کہو۔
یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی جب آپ ﷺ سے اصحابِ کہف، ذوالقرنین اور روح کے بارے میں سوال کیا گیا اور آپ نے فرمایا: "کل تمہیں جواب دوں گا" لیکن "إن شاء اللہ" نہیں کہا۔ چنانچہ وحی نازل ہونے میں تاخیر ہوئی اور یہ آیت نازل ہوئی۔
اس آیت میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنے مستقبل کے معاملات میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اپنی طاقت اور ارادے پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ جب کوئی شخص "إن شاء اللہ" کہتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے عاجز اور محتاج ظاہر کرتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ اصل فیصلہ کرنے والا اللہ ہی ہے۔
اگر کوئی شخص بھول جائے تو جب یاد آئے تو فوراً کہہ دے: "إن شاء اللہ"۔ کیونکہ اللہ کا ذکر بھولنے کو دور کرتا ہے۔ نیز یہ بھی کہا جا سکتا ہے: "عسى أن يهديني ربي لأقرب من هذا رشدا" یعنی "امید ہے میرا رب مجھے اس سے بھی قریب تر راہِ ہدایت کی طرف لے جائے گا"۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنے معاملات میں اللہ کو شامل کریں، اس کی مشیت کو مقدم رکھیں، اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے حوالے کر دیں۔ یہی توحید کا تقاضا ہے اور یہی بندے کی کامیابی کا راستہ ہے۔ جب انسان یہ یقین رکھتا ہے کہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، تو اس کا دل مطمئن رہتا ہے اور وہ پریشانیوں سے نجات پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مشیت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 21-25 — کہف
ترجمہ — کہف 23
سورہ کہف آیت 23 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے…سورہ آیت 23/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 21–25. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








