کہف · 56/110
ترجمہ تلفظ — کہف
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ ۚ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ ۖ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنذِرُوا هُزُوًا ۝٥٦
Wa maa nursilul mursaleena illaa mubashshireena wa munzireen; wa yujaadilul lazeena kafaroo bilbaatili liyudhidoo bihil haqqa wattakhazooo Aayaatee wa maaa unziroo huzuwaa
📖 اردو ترجمہ
اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں۔ اور جو کافر ہیں وہ باطل کی (سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مُبَشِّرِینَ: خوشخبری دینے والے (یعنی ایمان والوں کو جنت کی بشارت دینے والے)
  • مُنذِرِینَ: ڈرانے والے (یعنی کافروں کو عذاب سے خبردار کرنے والے)
  • لِیُدْحِضُوا: تاکہ باطل کے ذریعے حق کو مٹا دیں یا باطل کر دیں
  • هُزُوًا: مذاق، ٹھٹھا، استہزاء

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے فضل و حکمت سے اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجتا ہے، لیکن ان کا مقصد کوئی دنیاوی جاہ و منصب یا معجزات کا کھیل نہیں ہوتا، بلکہ ان کی بعثت کا اصل مقصد دو ہی چیزیں ہیں: ایک یہ کہ وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دیں، اور دوسرے یہ کہ وہ کفر و عصمت میں مبتلا لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں تاکہ وہ اپنی روش بدل لیں۔ یہی انبیاء کا اصل مشن ہے — رحمت کی بشارت اور عذاب کی تنبیہ۔

لیکن افسوس! حق اتنا واضح اور روشن ہونے کے باوجود کفار اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے رسولوں سے جھگڑتے ہیں۔ وہ باطل دلائل اور فضول حجتوں کے ذریعے حق کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ایسے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں جو ان کی ضد اور عناد کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں، نہ کہ ہدایت کی طلب کی وجہ سے۔ وہ اہلِ کہف کے قصے جیسی چیزوں کے بارے میں سوالات کرتے ہیں تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو الجھا سکیں اور حق کو باطل کے ذریعے دبا سکیں۔

اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو — جو قرآن مجید ہے — اور ان ڈراوں کو جن سے انہیں خبردار کیا گیا تھا، محض مذاق اور ٹھٹھا بنا لیا۔ وہ انہیں سن کر ہنستے ہیں، انہیں افسانے اور جھوٹ کہتے ہیں، اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق اور نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو صرف رحمت بنا کر بھیجا — وہ لوگوں کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور جہنم سے ڈراتے ہیں۔ یہ اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو اندھیرے میں نہیں چھوڑا، بلکہ ان کی رہنمائی کے لیے روشن چراغ بھیجے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان بشارتوں پر یقین کریں اور ان ڈراونے باتوں سے ڈریں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔

اور جہاں تک کفار کے جھگڑنے اور مذاق اڑانے کا تعلق ہے، یہ ان کی جہالت اور سرکشی کی انتہا ہے۔ ہمیں اس سے سبق لینا چاہیے کہ کبھی حق کے سامنے ضد اور تکبر نہ کریں، بلکہ حق کو قبول کریں چاہے وہ ہماری خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ کی آیات کو مذاق بنانا سب سے بڑی بدبختی ہے، اور اس سے بچنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ ہم دعا کریں کہ اللہ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق دے اور آیات الٰہیہ کے ساتھ ادب و احترام کا سلوک عطا فرمائے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 54-58 — کہف

54وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا
اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے
55وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا
اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو
56وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ ۚ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ ۖ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنذِرُوا هُزُوًا
اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں۔ اور جو کافر ہیں وہ باطل کی (سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا
57وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ ۚ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۖ وَإِن تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ فَلَن يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا
اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے
58وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ ۖ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ ۚ بَل لَّهُم مَّوْعِدٌ لَّن يَجِدُوا مِن دُونِهِ مَوْئِلًا
اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ عذاب بھیج دے۔ مگر ان کے لئے ایک وقت (مقرر کر رکھا) ہے کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
56آیت

ترجمہ — کہف 56

سورہ کہف آیت 56 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف…

سورہ آیت 56/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 54–58. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں