ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ذُکِّرَ: نصیحت دی گئی، یاد دہانی کرائی گئی۔
- فَأَعْرَضَ عَنْهَا: اس سے منہ موڑ لیا، اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
- نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدَاهُ: اپنے ان اعمال کو بھلا دیا جو اس نے پہلے کیے تھے (یعنی کفر اور گناہ)۔
- أَکِنَّةً: پردے، ڈھانپیں (جمع ہے کِنان کی)۔
- وَقْرًا: بوجھ، بہرا پن، سماعت کی بندش۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جو حق سے منہ موڑ لیتے ہیں اور اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو سکتا ہے جسے اس کے رب کی آیتیں پڑھ کر سنائی جائیں، نصیحت کی جائے، لیکن وہ ان سے اعراض کرے، انہیں سن کر بھی ان پر عمل نہ کرے، اور اپنے ان گناہوں کو بھول جائے جو اس نے پہلے کیے ہیں؟ وہ نہ تو اپنے ماضی کے برے اعمال پر شرمندہ ہوتا ہے، نہ توبہ کرتا ہے، نہ اللہ کی نشانیوں سے عبرت حاصل کرتا ہے۔
یہ انتہائی ظلم ہے کہ انسان کو ہدایت کا راستہ دکھایا جائے، اس کے سامنے حق واضح کیا جائے، اور وہ پھر بھی اس سے منہ موڑ لے۔ ایسا شخص اپنے اوپر ظلم کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی رحمت اور ہدایت سے محروم کر لیتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ جب انسان حق سے اعراض کرتا ہے اور ضد پر اڑ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی سزا میں اس کے دل پر پردے ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ قرآن کو سمجھ نہ سکے، اور اس کے کانوں میں بہرا پن ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ حق کی آواز سن کر بھی اسے قبول نہ کر سکے۔ یہ اللہ کی طرف سے سزا ہے اس کے اعراض اور تکبر کی وجہ سے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں: اے محمد! اگر تم ان لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاؤ گے بھی تو وہ کبھی ہدایت نہیں پائیں گے، کیونکہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اور ان کے کانوں پر پردہ پڑ چکا ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے خود حق کو رد کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ جب ہمارے سامنے حق پیش کیا جائے تو ہم فوراً اسے قبول کریں، چاہے وہ ہماری خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ ہم حق کو پہچانیں اور اس پر عمل کریں۔ جو شخص حق سن کر اس سے منہ موڑ لیتا ہے، وہ اپنے دل کو اندھا کر لیتا ہے، اور پھر اللہ کی طرف سے اس پر پردے ڈال دیے جاتے ہیں جس کے بعد ہدایت ملنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ہر روز قرآن پڑھیں، اس پر غور کریں، اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ قرآن وہ کتاب ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائی کا راستہ دکھاتی ہے۔ جب ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں گے تو ہمارے دل روشن ہوں گے اور ہم اللہ کے قریب ہوں گے۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہدایت اس شخص کو دیتے ہیں جو اسے قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اور جو شخص حق سے منہ موڑتا ہے، وہ اپنے آپ کو بڑے نقصان میں ڈالتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہمارے دلوں کو قرآن کی برکتوں سے منور فرمائیں۔ آمین۔
📜 آیت 55-59 — کہف
ترجمہ — کہف 57
سورہ کہف آیت 57 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار…سورہ آیت 57/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 55–59. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








