Wa maa mana`an naasa any yu`minooo iz jaaa`ahumul hudaa wa yastaghfiroo Rabbahum illaaa an taatiyahum sunnatul awwaleena aw yaatiyahumul `azaabu qubulaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مردمان را چون به راه هدايت فرا خواندند، هيچ چيز از ايمان آوردن و آمرزش خواستن، بازنداشت مگر آنكه مىبايست به شيوه پيشينيان گرفتار عذاب شوند يا آنكه عذاب روياروى و آشكارا بر آنان فرود آيد.
اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْهُدَىٰ: ہدایت، یعنی قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام۔
سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ: پہلے لوگوں کا طریقہ، یعنی اللہ کا وہ قانون جس کے تحت پہلی قوموں کو عذاب دیا گیا۔
قُبُلًا: سامنے، آنکھوں کے سامنے، علیٰ وجہ العیان۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے رویے پر تعجب اور ملامت کا اظہار فرماتا ہے جو ہدایت کے سامنے آنے کے باوجود ایمان نہیں لاتے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن لے کر آئے اور لوگوں کے پاس ہدایت کا واضح پیغام پہنچا، تو انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے سے کس چیز نے روکا؟ کیا دلیل کی کمی تھی؟ ہرگز نہیں! بلکہ ان کی اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور عناد نے انہیں روکے رکھا۔ وہ ایمان لانے کے بجائے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان پر وہی عذاب نازل کرے جو پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، یا وہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں۔ یعنی وہ نصیحت اور دلیل سے نہیں مانتے تھے، بلکہ عذاب دیکھ کر ماننا چاہتے تھے، حالانکہ عذاب کے بعد ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کی فطرت میں ضد اور تکبر ہوتا ہے، لیکن اللہ کی رحمت یہ ہے کہ وہ ہمیں دلیل اور نصیحت کے ذریعے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جب ہمارے پاس ہدایت آئے تو ہم فوراً اسے قبول کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں، نہ کہ عذاب کا انتظار کریں۔
یاد رکھیے! اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ قوموں کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا، بلکہ مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لیں۔ لیکن جو لوگ ضد اور تکبر پر اڑے رہتے ہیں، ان پر عذاب آ کر ہی رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کے سامنے عاجزی اور انکساری سے جھکیں، اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں، کیونکہ یہی نجات کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کی رحمت سے فائدہ اٹھائیں، نہ کہ اس کے عذاب کا انتظار کریں۔
اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو
اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں۔ اور جو کافر ہیں وہ باطل کی (سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا
اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔