ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَا تُؤَاخِذْنِي: مجھے نہ پکڑو، مجھ سے مؤاخذہ نہ کرو۔
- نَسِیتُ: میں بھول گیا۔
- تُرْهِقْنِي: مجھ پر مشقت ڈالو، مجھے تنگی میں ڈالو۔
- عُسْرًا: سختی، دشواری۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ اپنے سفر کے دوران پہلی بار ان کے شرط کی خلاف ورزی کی (یعنی کشتی کو ڈبونے پر صبر نہ کر سکے)، تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے فوراً معذرت کرتے ہوئے کہا: "میرے نسیان کی وجہ سے مجھے نہ پکڑو، اور میرے معاملے میں مجھ پر سختی نہ کرو۔" یعنی انہوں نے اپنی بھول کو تسلیم کیا اور یہ درخواست کی کہ اس بھول پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیا جائے، اور نہ ہی میرے ساتھ اس قدر سختی کی جائے کہ میں آپ کی صحبت کا فائدہ نہ اٹھا سکوں۔ یہ ایک عاجزانہ اور منکسرانہ درخواست تھی، جس میں انہوں نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور اپنے استاد سے نرمی اور آسانی کا مطالبہ کیا۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب کوئی شخص کسی عالم یا استاد سے علم حاصل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ عاجزی اور انکساری اختیار کرے، اپنی غلطیوں پر معذرت کرے، اور اپنے استاد سے نرمی اور آسانی کی درخواست کرے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ انداز ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ علم حاصل کرنے والے کو صبر، تحمل اور ادب سے کام لینا چاہیے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان بھولنے والا ہے، لیکن بھول پر معذرت کرنا اور اصلاح کی کوشش کرنا بہت بڑی خوبی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ اور علماء کے ساتھ ادب اور عاجزی کا رویہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 71-75 — کہف
ترجمہ — کہف 73
سورہ کہف آیت 73 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (موسیٰ نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس…سورہ آیت 73/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 71–75. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








