ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَلَمْ أَقُلْ: کیا میں نے نہیں کہا تھا؟
- لَن تَسْتَطِيعَ: ہرگز طاقت نہیں رکھو گے / برداشت نہیں کر سکو گے۔
- صَبْرًا: صبر کرنا، تحمل کرنا۔
تفسیر:
حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: ”کیا میں نے تم سے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر کرنے کی ہرگز طاقت نہیں رکھو گے؟“ یہ ایک نرم اور محبت بھرا جملہ تھا، جس میں خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو وہ بات یاد دلائی جو انہوں نے پہلے ہی کہہ دی تھی۔ دراصل حضرت خضر علیہ السلام نے شروع میں ہی شرط رکھی تھی کہ آپ مجھ سے صبر نہیں کر سکیں گے، کیونکہ میرے کام ظاہری طور پر خلافِ عقل نظر آتے ہیں، لیکن ان کے اندر اللہ کی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علماء اور بزرگوں کی بات کو غور سے سننا چاہیے، اور جب کوئی صاحبِ علم کسی بات کی تاکید کرے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جلدی کی اور وعدہ توڑ دیا، لیکن خضر علیہ السلام نے نرمی سے انہیں یاد دلایا، نہ کہ سختی سے۔ یہ ہمارے لیے بہترین سبق ہے کہ دوسروں کی غلطی پر نرمی اور حکمت سے کام لیں۔
اس آیت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ صبر ایک بہت بڑی نعمت ہے، اور جو لوگ صبر کرتے ہیں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم نبی بھی صبر کی آزمائش میں کمزور پڑ گئے، تو ہم معمولی انسانوں کو تو اور بھی زیادہ صبر کی ضرورت ہے۔ اللہ ہمیں صبر اور تحمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں اپنے دین کی سمجھ عطا کرے۔ آمین۔
📜 آیت 70-74 — کہف
ترجمہ — کہف 72
سورہ کہف آیت 72 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ…سورہ آیت 72/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 70–74. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








