کہف · 74/110
ترجمہ تلفظ — کہف
فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا ۝٧٤
Fantalaqaa hattaa izaa laqiyaa ghulaaman faqatalahoo qaala aqatalta nafsan zakiy yatam bighairi nafs; laqad ji`ta shai`an nukraa
📖 اردو ترجمہ
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا

معانی الفاظ:

  • زَكِيَّةً: پاک، معصوم، گناہوں سے پاک اور بے قصور۔
  • بِغَيْرِ نَفْسٍ: بغیر کسی جان کے بدلے، یعنی قصاص کے بغیر۔
  • نُّكْرًا: بہت برا اور منکر کام، جسے عقل و شرع دونوں رد کرتی ہیں۔

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام جب کشتی سے اترے تو ساحل کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ راستے میں انہوں نے ایک نوجوان لڑکے کو دیکھا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کر دیا۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام بے حد متاثر ہوئے اور فوراً انہوں نے اس پر اعتراض کیا: "کیا آپ نے ایک پاکیزہ اور معصوم جان کو قتل کر دیا، جس نے نہ کسی کا خون کیا تھا اور نہ ہی وہ تکلیف (شریعت کی ذمہ داری) کے قابل تھا؟ یہ تو بہت ہی برا اور منکر کام ہے جو آپ نے کیا ہے۔"

یہ اعتراض اس لیے تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام کے علمِ خاص کا علم نہیں تھا، اور ظاہری طور پر یہ فعل نہایت ہی قابلِ اعتراض تھا۔ لیکن اس واقعے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ تھی، جو بعد میں سامنے آئی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور اس کے بندوں کے افعال میں جو حکمتیں ہوتی ہیں، وہ ہماری عقلِ ناقص سے باہر ہو سکتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ جو کچھ اللہ کرتا ہے، بہتر ہی کرتا ہے۔ نیز یہ کہ علمِ ظاہر پر اکتفا نہ کریں، بلکہ اللہ کے نیک بندوں کے افعال میں حکمت تلاش کریں۔ یہ واقعہ ہمیں صبر، توکل اور اللہ کے قضا و قدر پر راضی رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔



📜 آیت 72-76 — کہف

72قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا
(خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے
73قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا
(موسیٰ نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے
74فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی
75۞ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا
(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے
76قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي ۖ قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْرًا
انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
74آیت

ترجمہ — کہف 74

سورہ کہف آیت 74 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا…

سورہ آیت 74/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 72–76. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں