ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رَاعِنَا: اس کا اصل مطلب ہے "ہماری رعایت کرو" یا "ہماری طرف توجہ کرو"، لیکن یہود اس لفظ کو تحریف کرکے گالی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
- انظُرْنَا: "ہماری طرف دیکھو" یا "ہم پر نظر رکھو" کے معنی میں، جو ادب اور احترام والا لفظ ہے۔
- وَاسْمَعُوا: سنو اور سمجھو، یعنی غور سے سنو اور اس پر عمل کرو۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ادب اور تعظیم کا درس دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے وقت کبھی "رَاعِنَا" کا لفظ استعمال نہ کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود اپنی شرارت اور کینہ کی بنا پر اس لفظ کو تحریف کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سبق سکھانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ وہ اپنی زبان کو مروڑ کر "رَاعِنَا" کہتے تھے، جس کا مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو "رعونتی" یا "احمق" کہنا ہوتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے منع فرمایا تاکہ یہود کو موقع نہ ملے اور مسلمان ہمیشہ ادب اور احترام کے ساتھ گفتگو کریں۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں: "انظُرْنَا" یعنی ہماری طرف نظر کریں یا ہم آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہیں، ہمیں سمجھائیں۔ یہ لفظ اسی مفہوم کو ادا کرتا ہے لیکن اس میں کوئی شبہ یا تحریف کا پہلو نہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سکھایا کہ وہ ہمیشہ صاف، واضح اور ادب والی زبان استعمال کریں، حتیٰ کہ ان الفاظ سے بھی پرہیز کریں جنہیں دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَاسْمَعُوا" یعنی جو کچھ تمہیں اللہ کی طرف سے حکم دیا جائے اسے غور سے سنو اور اس پر عمل کرو۔ سننا صرف کانوں سے نہیں بلکہ دل سے قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا بھی ہے۔ یہ حکم مسلمانوں کو سکھاتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی بات کو پوری توجہ سے سنیں اور اس پر عمل کریں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ" یعنی جو لوگ کفر کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہیں، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہ وعید یہود اور تمام کافروں کے لیے ہے جو اللہ کے رسول کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ اسلام ہمیں ادب اور اخلاق کا درس دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں اور ان کی تعظیم کریں۔ نیز ہمیں اپنی زبان کو ہمیشہ پاکیزہ رکھنا چاہیے اور ایسے الفاظ سے پرہیز کرنا چاہیے جن سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دشمن چاہے جتنی بھی کوشش کرے، ہم اپنے دین اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی حفاظت خود کرتا ہے اور کافروں کے لیے عذاب کا وعدہ فرمایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کریں اور ان کی محبت کو اپنے دلوں میں بٹھائیں۔
📜 آیت 102-106 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 104
سورہ بقرہ آیت 104 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا…سورہ آیت 104/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 102–106. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








