بقرہ · 104/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝١٠٤
Yaaa ayyuhal lazeena aamanoo laa taqooloo raa`inaa wa qoolun zurnaa wasma`oo; wa lilkaafireena `azaabun aleem
📖 اردو ترجمہ
اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • رَاعِنَا: اس کا اصل مطلب ہے "ہماری رعایت کرو" یا "ہماری طرف توجہ کرو"، لیکن یہود اس لفظ کو تحریف کرکے گالی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
  • انظُرْنَا: "ہماری طرف دیکھو" یا "ہم پر نظر رکھو" کے معنی میں، جو ادب اور احترام والا لفظ ہے۔
  • وَاسْمَعُوا: سنو اور سمجھو، یعنی غور سے سنو اور اس پر عمل کرو۔

تفسیر:

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ادب اور تعظیم کا درس دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے وقت کبھی "رَاعِنَا" کا لفظ استعمال نہ کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود اپنی شرارت اور کینہ کی بنا پر اس لفظ کو تحریف کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سبق سکھانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ وہ اپنی زبان کو مروڑ کر "رَاعِنَا" کہتے تھے، جس کا مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو "رعونتی" یا "احمق" کہنا ہوتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے منع فرمایا تاکہ یہود کو موقع نہ ملے اور مسلمان ہمیشہ ادب اور احترام کے ساتھ گفتگو کریں۔

اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں: "انظُرْنَا" یعنی ہماری طرف نظر کریں یا ہم آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہیں، ہمیں سمجھائیں۔ یہ لفظ اسی مفہوم کو ادا کرتا ہے لیکن اس میں کوئی شبہ یا تحریف کا پہلو نہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سکھایا کہ وہ ہمیشہ صاف، واضح اور ادب والی زبان استعمال کریں، حتیٰ کہ ان الفاظ سے بھی پرہیز کریں جنہیں دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَاسْمَعُوا" یعنی جو کچھ تمہیں اللہ کی طرف سے حکم دیا جائے اسے غور سے سنو اور اس پر عمل کرو۔ سننا صرف کانوں سے نہیں بلکہ دل سے قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا بھی ہے۔ یہ حکم مسلمانوں کو سکھاتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی بات کو پوری توجہ سے سنیں اور اس پر عمل کریں۔

آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ" یعنی جو لوگ کفر کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہیں، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہ وعید یہود اور تمام کافروں کے لیے ہے جو اللہ کے رسول کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ اسلام ہمیں ادب اور اخلاق کا درس دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں اور ان کی تعظیم کریں۔ نیز ہمیں اپنی زبان کو ہمیشہ پاکیزہ رکھنا چاہیے اور ایسے الفاظ سے پرہیز کرنا چاہیے جن سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دشمن چاہے جتنی بھی کوشش کرے، ہم اپنے دین اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی حفاظت خود کرتا ہے اور کافروں کے لیے عذاب کا وعدہ فرمایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کریں اور ان کی محبت کو اپنے دلوں میں بٹھائیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 102-106 — بقرہ

102وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے
103وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے
104يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے
105مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
106۞ مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
104آیت

ترجمہ — بقرہ 104

سورہ بقرہ آیت 104 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا…

سورہ آیت 104/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 102–106. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں