Wadda kaseerum min ahlil kitaabi law yaruddoo nakum mim ba`di eemaanikum kuffaaran hasadam min `indi anfusihim mim ba`di maa tabaiyana lahumul haqqu fa`foo washfahoo hattaa yaa tiyallaahu bi amrih; innal laaha `alaa kulli shai`in qadeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بسيارى از اهل كتاب با آنكه حقيقت بر آنها آشكار شده، از روى حسد، دوست دارند شما را پس از ايمان آوردنتان به كفر بازگردانند. عفو كنيد و گذشت كنيد، تا خدا فرمانش را بياورد، كه او بر هر كارى تواناست.
بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
آیت نمبر 109 کے اہم الفاظ کے معانی:
وَدَّ: انہوں نے چاہا، تمنا کی
لَوْ يَرُدُّونَكُمْ: کاش کہ وہ تمہیں پھیر دیں
حَسَدًا: حسد کی بنا پر
مِنْ عِندِ أَنفُسِهِمْ: اپنی طرف سے، اپنے دل سے
فَاعْفُوا: پس معاف کرو
وَاصْفَحُوا: درگزر کرو، چشم پوشی کرو
حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ: یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کے اس حسد اور کینہ کا پردہ فاش فرماتے ہیں جو وہ مسلمانوں کے ساتھ رکھتے ہیں۔ وہ اپنے دلوں میں یہ تمنا رکھتے ہیں کہ کاش تم مسلمان ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاؤ اور اپنے آباء و اجداد کی طرح بت پرستی اختیار کر لو۔ یہ خواہش محض حسد کی وجہ سے ہے جو ان کے دلوں میں بھری ہوئی ہے، حالانکہ ان پر حق واضح ہو چکا تھا اور انہیں تورات و انجیل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے دلائل مل چکے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آپ کا دین حق ہے، پھر بھی اپنے حسد اور بغض کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔
یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان کی اس گستاخی اور بدگوئی سے درگزر کریں، انہیں معاف کریں اور ان کی جہالت پر صبر کریں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود اپنا فیصلہ سنائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بعد میں اپنا حکم نازل فرمایا، جس کے تحت یہود سے جہاد کا حکم دیا گیا، بنو قریظہ کو قتل اور بنو نضیر کو جلاوطن کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ کسی بھی وقت اپنے دشمنوں سے بدلہ لے سکتا ہے۔
اس آیت میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ دشمنوں کی مخالفت اور ان کے حسد کے باوجود صبر اور درگزر سے کام لینا چاہیے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو ذلیل کرتا ہے، جب وہ اپنے حکم کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق پر قائم رہنا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، کیونکہ اللہ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا، وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا
بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے
اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔