بقرہ · 109/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَوۡ يَرُدُّونَكُم مِّنۢ بَعۡدِ إِيمَٰنِكُمۡ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنۡ عِندِ أَنفُسِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡحَقُّۖ فَٱعۡفُواْ وَٱصۡفَحُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦٓۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيرٌ  ۝١٠٩
Wadda kaseerum min ahlil kitaabi law yaruddoo nakum mim ba`di eemaanikum kuffaaran hasadam min `indi anfusihim mim ba`di maa tabaiyana lahumul haqqu fa`foo washfahoo hattaa yaa tiyallaahu bi amrih; innal laaha `alaa kulli shai`in qadeer
📖 اردو ترجمہ
بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت نمبر 109 کے اہم الفاظ کے معانی:

  • وَدَّ: انہوں نے چاہا، تمنا کی
  • لَوْ يَرُدُّونَكُمْ: کاش کہ وہ تمہیں پھیر دیں
  • حَسَدًا: حسد کی بنا پر
  • مِنْ عِندِ أَنفُسِهِمْ: اپنی طرف سے، اپنے دل سے
  • فَاعْفُوا: پس معاف کرو
  • وَاصْفَحُوا: درگزر کرو، چشم پوشی کرو
  • حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ: یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کے اس حسد اور کینہ کا پردہ فاش فرماتے ہیں جو وہ مسلمانوں کے ساتھ رکھتے ہیں۔ وہ اپنے دلوں میں یہ تمنا رکھتے ہیں کہ کاش تم مسلمان ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاؤ اور اپنے آباء و اجداد کی طرح بت پرستی اختیار کر لو۔ یہ خواہش محض حسد کی وجہ سے ہے جو ان کے دلوں میں بھری ہوئی ہے، حالانکہ ان پر حق واضح ہو چکا تھا اور انہیں تورات و انجیل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے دلائل مل چکے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آپ کا دین حق ہے، پھر بھی اپنے حسد اور بغض کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔

یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان کی اس گستاخی اور بدگوئی سے درگزر کریں، انہیں معاف کریں اور ان کی جہالت پر صبر کریں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود اپنا فیصلہ سنائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بعد میں اپنا حکم نازل فرمایا، جس کے تحت یہود سے جہاد کا حکم دیا گیا، بنو قریظہ کو قتل اور بنو نضیر کو جلاوطن کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ کسی بھی وقت اپنے دشمنوں سے بدلہ لے سکتا ہے۔

اس آیت میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ دشمنوں کی مخالفت اور ان کے حسد کے باوجود صبر اور درگزر سے کام لینا چاہیے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو ذلیل کرتا ہے، جب وہ اپنے حکم کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق پر قائم رہنا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، کیونکہ اللہ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 107-111 — بقرہ

107أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ 
تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں
108أَمۡ تُرِيدُونَ أَن تَسۡـَٔلُواْ رَسُولَكُمۡ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبۡلُۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ ٱلۡكُفۡرَ بِٱلۡإِيمَٰنِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ 
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا، وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا
109وَدَّ كَثِيرٌ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَوۡ يَرُدُّونَكُم مِّنۢ بَعۡدِ إِيمَٰنِكُمۡ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنۡ عِندِ أَنفُسِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡحَقُّۖ فَٱعۡفُواْ وَٱصۡفَحُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦٓۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيرٌ 
بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے
110وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَمَا تُقَدِّمُواْ لِأَنفُسِكُم مِّنۡ خَيۡرٍ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ 
اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
111وَقَالُواْ لَن يَدۡخُلَ ٱلۡجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوۡ نَصَٰرَىٰۗ تِلۡكَ أَمَانِيُّهُمۡۗ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ 
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
109آیت

ترجمہ — بقرہ 109

سورہ آیت 109/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 107–111. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں