بقرہ · 118/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ۝١١٨
Wa qaalal lazeena laa ya`lamoona law laa yukallimunal laahu aw taateenaaa aayah; kazaalika qaalal lazeena min qablihim misla qawlihim; tashaabahat quloobuhum; qad baiyannal aayaati liqawminy yooqinoon
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، وہ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ جو لوگ صاحبِ یقین ہیں، ان کے (سمجھانے کے) لیے نشانیاں بیان کردی ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

﴿وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ﴾

معانی الفاظ:

  • لَا يَعْلَمُونَ: جاہل، وہ لوگ جو علم سے فائدہ نہیں اٹھاتے، یعنی مشرکین اور اہل کتاب کے وہ لوگ جو عناد رکھتے تھے۔
  • لَوْلَا: کیوں نہیں؟ / ہلا! (تحریض اور ملامت کے لیے)
  • آيَةٌ: معجزہ، نشانی، دلیل جو صداقت پر دلالت کرے۔

تفسیر:

یہ آیت ان لوگوں کا ذکر کرتی ہے جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے عناد اور ضد کی بنا پر کہا: "کیوں نہیں اللہ ہم سے براہِ راست کلام کرتا، یا ہمارے پاس کوئی خاص معجزہ آتا؟" یہ بات انہوں نے اس لیے کہی کہ وہ حق کو قبول کرنا نہیں چاہتے تھے، ورنہ ان کے پاس بے شمار دلائل اور معجزات موجود تھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اسی قسم کی باتیں پہلے کی قومیں بھی اپنے رسولوں سے کہہ چکی ہیں۔ ان کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں — سب کفر، عناد اور سرکشی میں یکساں ہیں۔ وقت اور جگہ بدل گئے، مگر دلوں کی بیماری وہی رہی۔

پھر اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنی نشانیاں اور دلائل واضح کر دیے ہیں، مگر یہ نشانیاں صرف ان لوگوں کے لیے نفع مند ہوتی ہیں جو یقین رکھتے ہیں، یعنی جو سچائی کو دیکھتے ہی دل سے قبول کر لیتے ہیں اور جن کے دلوں میں ضد اور تکبر کی بیماری نہیں ہوتی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے کہ انسان کا مسئلہ دل کا ہے، نہ کہ دلائل کی کمی کا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں کائنات میں، قرآن میں، اور رسولوں کے معجزات میں بکثرت رکھ دی ہیں۔ جو دل صاف اور سچائی کا طالب ہوتا ہے، وہ ایک چھوٹی سی نشانی سے بھی ہدایت پا لیتا ہے۔ لیکن جو دل عناد اور تکبر سے بھرا ہو، اس کے لیے بڑے سے بڑا معجزہ بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔

آئیے ہم اپنے دلوں کو صاف رکھیں، سچائی کے طالب بنیں، اور اللہ کی نشانیوں پر غور کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں، رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں، اور اس کائنات کی ہر چیز میں اپنی قدرت اور حکمت کے نقوش چھوڑے ہیں۔ جو شخص سچے دل سے ان پر غور کرے گا، وہ ضرور ہدایت پائے گا۔ اللہ ہمیں یقین والے لوگوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 116-120 — بقرہ

116وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۖ بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ
اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ (نہیں) وہ پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں
117بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے.
118وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ
اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، وہ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ جو لوگ صاحبِ یقین ہیں، ان کے (سمجھانے کے) لیے نشانیاں بیان کردی ہیں
119إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ۖ وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ
(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی
120وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
118آیت

ترجمہ — بقرہ 118

سورہ بقرہ آیت 118 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے…

سورہ آیت 118/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 116–120. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں