بقرہ · 117/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ۝١١٧
Badree`us samaawaati wal ardi wa izaa qadaaa amran fa innamaa yaqoolu lahoo kun fayakoon
📖 اردو ترجمہ
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے.
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بَدِيعُ: پیدا کرنے والا، ایسا خالق جس نے کسی نمونے اور مثال کے بغیر مخلوقات کو وجود بخشا۔
  • قَضَىٰ: حکم صادر کیا، فیصلہ کیا، تقدیر فرمائی۔
  • أَمْرًا: کوئی معاملہ، کوئی چیز جسے وجود میں لانا مقصود ہو۔
  • کُن فَیَکُونُ: "ہو جا" تو وہ ہو جاتی ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے وجود کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے صرف حکم دینا کافی ہوتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا خالق اور موجد ہے۔ اس نے انہیں کسی سابقہ نمونے، مثال یا کسی مدد کے بغیر پیدا کیا ہے۔ وہی ان کا مبتدع اور منشئ ہے، جس نے انہیں عدم سے وجود بخشا۔ اس کی قدرت کاملہ کا یہ عالم ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے اور اسے تقدیر میں لکھ دیتا ہے، تو اس کے لیے صرف یہ حکم دینا کافی ہوتا ہے کہ "ہو جا" اور وہ چیز فوراً وجود میں آجاتی ہے۔ اس کے حکم کے آگے کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی، نہ کوئی اس کے فیصلے کو ٹال سکتا ہے۔ یہ اللہ کی عظیم قدرت کا بیان ہے کہ اس کی مشیت جب کسی چیز پر تعلق لیتی ہے تو وہ چیز بلا کسی تاخیر کے وجود میں آجاتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور کمال اختیار کا ذکر ہے۔ جب ہم غور کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بغیر کسی نمونے کے پیدا کیا، اور ہر چیز اس کے حکم سے وجود میں آتی ہے، تو ہمارے دلوں میں اللہ کی عظمت اور کبریائی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کریں، کیونکہ وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے لیے کسی چیز کا پیدا کرنا صرف "کن" کہنے سے ممکن ہے، تو ہمیں اپنی مشکلات اور پریشانیوں میں بھی اسی قادرِ مطلق کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا فیصلہ ہی بہترین فیصلہ ہوتا ہے۔ جس شخص کو یہ یقین ہو جائے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے دل سے خوف اور پریشانی ختم ہو جاتی ہے، اور وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 115-119 — بقرہ

115وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے
116وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۖ بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ
اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ (نہیں) وہ پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں
117بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے.
118وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ
اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، وہ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ جو لوگ صاحبِ یقین ہیں، ان کے (سمجھانے کے) لیے نشانیاں بیان کردی ہیں
119إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ۖ وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ
(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
117آیت

ترجمہ — بقرہ 117

سورہ بقرہ آیت 117 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی…

سورہ آیت 117/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 115–119. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں