ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَدِيعُ: پیدا کرنے والا، ایسا خالق جس نے کسی نمونے اور مثال کے بغیر مخلوقات کو وجود بخشا۔
- قَضَىٰ: حکم صادر کیا، فیصلہ کیا، تقدیر فرمائی۔
- أَمْرًا: کوئی معاملہ، کوئی چیز جسے وجود میں لانا مقصود ہو۔
- کُن فَیَکُونُ: "ہو جا" تو وہ ہو جاتی ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے وجود کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے صرف حکم دینا کافی ہوتا ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا خالق اور موجد ہے۔ اس نے انہیں کسی سابقہ نمونے، مثال یا کسی مدد کے بغیر پیدا کیا ہے۔ وہی ان کا مبتدع اور منشئ ہے، جس نے انہیں عدم سے وجود بخشا۔ اس کی قدرت کاملہ کا یہ عالم ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے اور اسے تقدیر میں لکھ دیتا ہے، تو اس کے لیے صرف یہ حکم دینا کافی ہوتا ہے کہ "ہو جا" اور وہ چیز فوراً وجود میں آجاتی ہے۔ اس کے حکم کے آگے کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی، نہ کوئی اس کے فیصلے کو ٹال سکتا ہے۔ یہ اللہ کی عظیم قدرت کا بیان ہے کہ اس کی مشیت جب کسی چیز پر تعلق لیتی ہے تو وہ چیز بلا کسی تاخیر کے وجود میں آجاتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور کمال اختیار کا ذکر ہے۔ جب ہم غور کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بغیر کسی نمونے کے پیدا کیا، اور ہر چیز اس کے حکم سے وجود میں آتی ہے، تو ہمارے دلوں میں اللہ کی عظمت اور کبریائی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کریں، کیونکہ وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے لیے کسی چیز کا پیدا کرنا صرف "کن" کہنے سے ممکن ہے، تو ہمیں اپنی مشکلات اور پریشانیوں میں بھی اسی قادرِ مطلق کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا فیصلہ ہی بہترین فیصلہ ہوتا ہے۔ جس شخص کو یہ یقین ہو جائے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے دل سے خوف اور پریشانی ختم ہو جاتی ہے، اور وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔
📜 آیت 115-119 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 117
سورہ بقرہ آیت 117 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی…سورہ آیت 117/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 115–119. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








