بقرہ · 194/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
ٱلشَّهۡرُ ٱلۡحَرَامُ بِٱلشَّهۡرِ ٱلۡحَرَامِ وَٱلۡحُرُمَٰتُ قِصَاصٌۚ فَمَنِ ٱعۡتَدَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَٱعۡتَدُواْ عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا ٱعۡتَدَىٰ عَلَيۡكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ  ۝١٩٤
Ash Shahrul Haraamu bish Shahril Haraami wal hurumaatu qisaas; famani`tadaa `alaikum fa`tadoo `alaihi bimsisli ma`tadaa `alaikum; wattaqul laaha wa`lamooo annal laaha ma`al muttaqeen
📖 اردو ترجمہ
ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں۔ پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الشَّهْرُ الْحَرَامُ: وہ مہینہ جس میں لڑائی کرنا حرام ہے، یعنی ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب۔
  • الْحُرُمَاتُ: حرمت والی چیزیں، جیسے حرمت والا مہینہ، حرمت والا شہر (مکہ)، اور احرام کی حالت۔
  • قِصَاصٌ: بدلہ، برابر کا بدلہ، مساوات۔
  • اعْتَدَىٰ: زیادتی کرنا، حد سے تجاوز کرنا۔
  • بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ: اسی طرح جیسے اس نے زیادتی کی۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ جب کفار نے حرمت والے مہینوں میں تم پر ظلم کیا اور تمہیں بیت اللہ جانے سے روکا، تو تم بھی انہیں اسی طرح جواب دو جیسے انہوں نے تمہارے ساتھ کیا۔ یعنی حرمت والے مہینے میں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم بھی ان سے لڑ سکتے ہو، کیونکہ یہ بدلہ ہے، اور بدلہ لینا جائز ہے۔

پھر فرمایا کہ "حرمتیں قصاص ہیں" یعنی جس نے بھی کسی حرمت والی چیز کی بےحرمتی کی، اسے اسی کے برابر سزا دی جائے گی۔ اگر کسی نے حرمت والے مہینے میں قتل کیا، تو اسے بھی اسی مہینے میں قتل کیا جائے گا۔ اگر کسی نے حرمت والے شہر (مکہ) میں زیادتی کی، تو اسے بھی وہاں سزا دی جائے گی۔ یہ انصاف کا اصول ہے کہ سزا جرم کے برابر ہو۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "جو تم پر زیادتی کرے، تم بھی اس پر اسی طرح زیادتی کرو جیسا اس نے تم پر کیا" یعنی اگر دشمن تم پر حملہ کرے تو تم بھی دفاع کے لیے حملہ کرو، لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ صرف اتنا جواب دو جتنی زیادتی انہوں نے کی، اس سے زیادہ نہیں۔ یہ اسلامی اصول ہے کہ بدلہ لینے میں بھی میانہ روی اور انصاف ہونا چاہیے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ تقویٰ کا حکم دیتا ہے: "اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے" یعنی جب تم بدلہ لو تو اللہ کا خوف کرو، ظلم کی حد تک نہ پہنچو، اور یاد رکھو کہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ جو شخص اللہ کے ساتھ ہو، اسے کبھی نقصان نہیں ہو سکتا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سکھ ملتا ہے کہ اسلام دینِ انصاف ہے۔ ہمیں ظلم برداشت نہیں کرنا چاہیے، لیکن بدلہ لیتے وقت بھی انصاف کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ اسلام ہمیں حد سے تجاوز کرنے سے منع کرتا ہے، کیونکہ حد سے تجاوز کرنا خود ایک ظلم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ اللہ کا خوف رکھیں اور یاد رکھیں کہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ یہ وعدہ اللہ کا ہے کہ وہ متقیوں کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں انصاف اور تقویٰ کو اپنائیں، تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور نصرت کے مستحق بنیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 192-196 — بقرہ

192فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 
اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
193وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٌ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ لِلَّهِۖ فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَلَا عُدۡوَٰنَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ 
اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)
194ٱلشَّهۡرُ ٱلۡحَرَامُ بِٱلشَّهۡرِ ٱلۡحَرَامِ وَٱلۡحُرُمَٰتُ قِصَاصٌۚ فَمَنِ ٱعۡتَدَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَٱعۡتَدُواْ عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا ٱعۡتَدَىٰ عَلَيۡكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ 
ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں۔ پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے
195وَأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلۡقُواْ بِأَيۡدِيكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ وَأَحۡسِنُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ 
اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بےشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
196وَأَتِمُّواْ ٱلۡحَجَّ وَٱلۡعُمۡرَةَ لِلَّهِۚ فَإِنۡ أُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۖ وَلَا تَحۡلِقُواْ رُءُوسَكُمۡ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡهَدۡيُ مَحِلَّهُۥۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ بِهِۦٓ أَذًى مِّن رَّأۡسِهِۦ فَفِدۡيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوۡ صَدَقَةٍ أَوۡ نُسُكٍۚ فَإِذَآ أَمِنتُمۡ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلۡعُمۡرَةِ إِلَى ٱلۡحَجِّ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۚ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍ فِي ٱلۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ إِذَا رَجَعۡتُمۡۗ تِلۡكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمۡ يَكُنۡ أَهۡلُهُۥ حَاضِرِي ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ 
اور خدا (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ اور اگر (راستےمیں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ۔ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈالے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل وعیال مکے میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
194آیت

ترجمہ — بقرہ 194

سورہ آیت 194/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 192–196. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں