Wa iz qultum yaa Moosaa lan nasbira `alaa ta`aaminw waahidin fad`u lanaa rabbaka yukhrij lanaa mimmaa tumbitul ardu mimbaqlihaa wa qis saaa`ihaa wa foomihaa wa `adasihaa wa basalihaa qaala atastabdiloonal lazee huwa adnaa billazee huwa khayr; ihbitoo misran fa inna lakum maa sa altum; wa duribat `alaihimuz zillatu walmaskanatu wa baaa`oo bighadabim minal laah; zaalika bi annahum kaano yakfuroona bi aayaatil laahi wa yaqtuloonan Nabiyyeena bighairil haqq; zaalika bimaa `asaw wa kaanoo ya`tadoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و آنگاه را كه گفتيد: اى موسى، ما بر يك نوع طعام نتوانيم ساخت، از پروردگارت بخواه تا براى ما از آنچه از زمين مىرويد چون سبزى و خيار و سير و عدس و پياز بروياند. موسى گفت: آيا مىخواهيد آنچه را كه برتر است به آنچه فروتر است بدل كنيد؟ به شهرى باز گرديد كه در آنجا هر چه خواهيد به شما بدهند. مقرر شد بر آنها خوارى و بيچارگى و با خشم خدا قرين شدند. و اين بدان سبب بود كه به آيات خدا كافر شدند و پيامبران را به ناحق كشتند و نافرمانى كردند و تجاوز ورزيدند.
اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فُوم: گندم، یا روٹی، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ لہسن مراد ہے۔
قِثَّاء: ککڑی کی ایک قسم جو لمبی اور بڑی ہوتی ہے۔
أَدْنَى: کمتر اور ادنیٰ درجے کا۔
بَاءُوا: لوٹے، واپس ہوئے۔
الْمَسْكَنَة: فقر، محتاجی اور عاجزی۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بنی اسرائیل کا وہ واقعہ یاد دلاتا ہے جب انہوں نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: "ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کر سکتے"۔ حالانکہ اللہ نے انہیں من و سلویٰ (شہد جیسی میٹھی چیز اور بٹیر کا گوشت) جیسی عمدہ غذائیں عطا فرمائی تھیں جو بغیر کسی مشقت کے ان کے پاس آتی تھیں، لیکن ان کی طبیعت نے تنگی محسوس کی اور وہ زمین سے اگنے والی معمولی سبزیاں مانگنے لگے۔ انہوں نے کہا: "موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہمارے لیے زمین سے ترکاریاں، ککڑی، گندم، مسور اور پیاز پیدا کرے"۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تعجب اور انکار کے ساتھ فرمایا: "کیا تم کمتر چیز کو بہتر چیز کے بدلے لینا چاہتے ہو؟" یعنی من و سلویٰ جو اللہ کی طرف سے بلا محنت و مشقت ملنے والی بہترین غذا ہے، اسے چھوڑ کر زمین کی معمولی پیداوار مانگ رہے ہو؟ یہ تمہاری ناشکری اور حماقت ہے۔ پھر فرمایا: "اگر تمہیں یہی چاہیے تو کسی شہر میں اتر جاؤ، وہاں تمہیں یہ سب کچھ مل جائے گا جو تم مانگ رہے ہو۔"
لیکن جب انہوں نے اللہ کی نعمت کو حقیر جانا اور اپنی خواہشات کو اللہ کے انتخاب پر ترجیح دی، تو ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی۔ وہ اللہ کے غضب کا شکار ہوئے کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ یہ سب کچھ ان کی نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنے کی وجہ سے ہوا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ انسان کو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر قناعت کرنی چاہیے اور شکر گزار ہونا چاہیے۔ جو شخص اللہ کے دیے ہوئے رزق پر راضی رہتا ہے، اللہ اسے عزت دیتا ہے، لیکن جو ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے انتخاب پر اپنی خواہشات کو ترجیح دیتا ہے، وہ ذلت اور رسوائی سے دوچار ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کی قدر کریں، کیونکہ ناشکری انسان کو اللہ کے غضب کا مستحق بنا دیتی ہے۔ اللہ ہمیں شکر گزار بندے بنائے اور ناشکری سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا
اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے
اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔