Innal lazeena aamanoo wallazeena haadoo wan nasaaraa was Saabi`eena man aamana billaahi wal yawmil aakhiri wa `amila saalihan falahum ajruhum `inda Rabbihim wa laa khawfun `alaihim wa laa hum yahzanoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كسانى كه ايمان آوردند و كسانى كه آيين يهودان و ترسايان و صابئان را برگزيدند، اگر به خدا و روز بازپسين ايمان داشته باشند و كارى شايسته كنند، خدا به آنها پاداش نيك مىدهد و نه بيمناك مى شوند و نه محزون.
جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ہادوا: یہود کہلانے والے، جو موسیٰ علیہ السلام کی امت تھے۔
صابئین: وہ لوگ جو اپنی فطرت پر قائم رہے، نہ یہود تھے نہ نصاریٰ، بلکہ ایک مستقل گروہ تھے جو توحید پر ایمان رکھتے تھے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام گروہوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں ایمان کا حق ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اس امت میں سے ایمان لائے، اور جو پہلے گزرے ہیں ان میں سے یہود، نصاریٰ اور صابئین، ان سب میں سے جس نے بھی اللہ پر سچا ایمان رکھا، آخرت کے دن پر یقین کیا، اور نیک عمل کیے، تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے۔ انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
یہ بات اس وقت تک کے لیے تھی جب تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے تھے۔ آپ کی بعثت کے بعد جو شخص بھی آپ پر ایمان نہیں لائے گا، اس کا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ کیونکہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ وہ اپنے بندوں کو ان کے اعمال کی بنیاد پر جزا دیتا ہے، نہ کہ صرف نام یا نسب کی بنیاد پر۔ ہر دور میں جو لوگ سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کرتے رہے، ان کے لیے اللہ کی رحمت اور مغفرت تھی۔ لیکن اب اللہ نے اپنا آخری دین اسلام مکمل فرما دیا ہے، اور اس کے بعد نجات کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات پر عمل کریں۔ یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں مکمل اور پسندیدہ دین عطا فرمایا۔ ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کریں اور اپنے ایمان و عمل کو اس طرح بنائیں کہ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہو جائیں جنہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا
اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے
اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔