بقرہ · 60/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
۞ وَإِذِ اسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ۝٦٠
Wa izis tasqaa Moosaa liqawmihee faqulnad rib bi`asaakal hajara fanfajarat minhusnataaa `ashrata `aynan qad `alima kullu unaasim mash rabahum kuloo washraboo mir rizqil laahi wa laa ta`saw fil ardi mufsideen
📖 اردو ترجمہ
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا
📜

ترجمہ — Tafsir

﴿وَإِذِ اسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ﴾

لغوی معانی:

  • اسْتَسْقَىٰ: پانی مانگنا، سیراب ہونے کی درخواست کرنا۔
  • فَانفَجَرَتْ: پھوٹ پڑیں، جوش مار کر نکلنا۔
  • عَيْنًا: چشمے، پانی کے منبع۔
  • تَعْثَوْا: فساد پھیلانا، زمین میں بگاڑ کرنا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے عظیم احسانات یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب بنی اسرائیل صحرائے تیہ میں پیاس کی شدت سے نڈھال ہو گئے تھے، اور انہوں نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی تو آپ نے اپنے رب کے حضور دستِ دعا اٹھایا اور اپنی قوم کے لیے پانی طلب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ اپنی عصا سے اس خاص پتھر پر ضرب لگائیں۔ جیسے ہی آپ نے وہ ضرب لگائی، اس سخت چٹان سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، جو بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی تعداد کے برابر تھے۔

یہ اللہ کی رحمت کا کمال تھا کہ ہر قبیلے کے لیے الگ چشمہ مخصوص کر دیا گیا، تاکہ ان کے درمیان کوئی جھگڑا اور نزاع پیدا نہ ہو۔ ہر قبیلہ اپنے مخصوص چشمے سے پانی پیتا تھا اور دوسرے قبیلے کے چشمے پر کوئی تجاوز نہیں کرتا تھا۔ یہ اللہ کی حکمت اور تدبیر تھی کہ اس نے اپنی مخلوق کے درمیان امن و سکون قائم رکھنے کا انتظام کیا۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اس رزقِ الٰہی سے کھاؤ اور پیو جو بغیر کسی مشقت اور محنت کے انہیں مہیا کیا گیا تھا، لیکن ساتھ ہی انہیں خبردار کیا کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، نافرمانی اور سرکشی سے بچو، اور اللہ کی نعمتوں کا ناشکری کے ساتھ مقابلہ نہ کرو۔

دعوتی پہلو:

اس واقعہ میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار سنتا ہے اور ان کی حاجت پوری کرتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔ ایک سخت چٹان سے پانی نکالنا اللہ کی قدرت کا مظہر ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ جب بندہ اپنے رب کے حضور جھکتا ہے تو اللہ اس کے لیے ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ہر ضرورت میں اللہ سے دعا کریں، کیونکہ وہی رزق دینے والا اور مشکلات حل کرنے والا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں اتحاد اور اتفاق کا بھی درس دیتا ہے کہ اللہ نے ہر قبیلے کے لیے الگ چشمہ مقرر کیا تاکہ آپس میں جھگڑا نہ ہو۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں امن و محبت قائم رکھنی چاہیے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے زمین پر فساد سے بچنا چاہیے۔ اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں، اور ہم پر فرض ہے کہ ان نعمتوں کا صحیح استعمال کریں اور نافرمانی سے اجتناب کریں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 58-62 — بقرہ

58وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ
اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
59فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے
60۞ وَإِذِ اسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا
61وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ۖ قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ ۚ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ ۗ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ
اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
62إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَىٰ وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
60آیت

ترجمہ — بقرہ 60

سورہ بقرہ آیت 60 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے)…

سورہ آیت 60/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 58–62. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں