یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اشْتَرَوُا: بیچا اور خریدا، یعنی دنیا کو آخرت کے بدلے لے لیا۔
الْحَيَاةَ الدُّنْيَا: دنیوی زندگی، جو فانی اور عارضی ہے۔
بِالْآخِرَةِ: آخرت کی دائمی اور باقی رہنے والی زندگی کے عوض۔
فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ: ان سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔
وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ: اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے دنیا کی عارضی زندگی کو آخرت کی ابدی زندگی پر ترجیح دی۔ انہوں نے اپنی عقل و سمجھ سے یہ سودا کیا کہ جو چیز فانی ہے اسے اختیار کیا اور جو باقی رہنے والی ہے اسے چھوڑ دیا۔ ان کا یہ انتخاب ان کی اپنی خواہشات اور گمراہی کا نتیجہ تھا، کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور اپنے نفس کے پیچھے چل پڑے۔
یہ لوگ قیامت کے دن سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور ان کا عذاب ذرا بھی ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ نہ کوئی ان کی شفاعت کرے گا، نہ کوئی انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا ہوگا۔ وہ بالکل تنہا اور بے یار و مددگار ہوں گے، اور ان کی کوئی بھی کوشش یا توبہ اس دن کام نہ آئے گی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا کی محبت اور آخرت کو بھول جانا انسان کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزاریں، اور اس بات کا خیال رکھیں کہ ہر عمل کا حساب ہوگا۔ دنیا کی لذتیں چند دن کی ہیں، لیکن آخرت کی کامیابی ہمیشہ کی خوشی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ ہم صحیح راستہ چنیں، اور دنیا کے جھوٹے سودے سے بچ کر آخرت کی حقیقی کامیابی کی طرف بڑھیں۔ یاد رکھیں، جو شخص اللہ کی اطاعت کرتا ہے، وہ دنیا میں بھی عزت پاتا ہے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوتا ہے، لیکن جو اللہ سے منہ موڑتا ہے، وہ دونوں جہانوں میں نقصان اٹھاتا ہے۔
پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کر دیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرکے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلہ دے کر ان کو چھڑا بھی لیتے ہو، حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا۔ (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتابِ (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو، تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو، خدا ان سے غافل نہیں
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے، جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا، تو تم سرکش ہو جاتے رہے، اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔