بقرہ · 87/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ ۖ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ ۝٨٧
Wa laqad aatainaa Moosal Kitaaba wa qaffainaa mim ba`dihee bir Rusuli wa aatainaa `Eesab-na-Maryamal baiyinaati wa ayyadnaahu bi Roohil Qudus; afakullamaa jaaa`akum Rasoolum bimaa laa tahwaaa anfusukumus takbartum fafareeqan kazzabtum wa fareeqan taqtuloon
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے، جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا، تو تم سرکش ہو جاتے رہے، اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے
📜

ترجمہ — Tafsir

﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ﴾

معانی الفاظ:

  • آتَيْنَا: ہم نے عطا کیا۔
  • الْكِتَابَ: تورات۔
  • وَقَفَّيْنَا: ہم نے پیچھے پیچھے بھیجا، یعنی یکے بعد دیگرے روانہ کیا۔
  • الْبَيِّنَاتِ: واضح معجزات اور روشن دلیلیں۔
  • أَيَّدْنَاهُ: ہم نے اسے قوت دی۔
  • رُوحِ الْقُدُسِ: جبرائیل علیہ السلام۔
  • تَهْوَى: چاہتی ہے، پسند کرتی ہے۔
  • اسْتَكْبَرْتُمْ: تم نے تکبر کیا، سرکشی کی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں بنی اسرائیل کو ان کی تاریخی نافرمانیوں کی یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عطا کی، جو تورات تھی، اور ان کے بعد یکے بعد دیگرے کئی رسول بھیجے، جیسے داؤد، سلیمان، یحییٰ اور زکریا علیہم السلام۔ پھر ہم نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو واضح معجزات عطا کیے، جیسے مردوں کو زندہ کرنا، اندھے اور کوڑھی کو شفا دینا، اور انہیں جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے قوت بخشی۔

پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے: کیا جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول وہ پیغام لے کر آیا جو تمہاری خواہشات کے خلاف تھا، تو تم نے تکبر کیا؟ چنانچہ کچھ رسولوں کو تم نے جھٹلایا اور کچھ کو قتل کر دیا۔ یہ اندازِ استفہام ان کی ناشکری اور سرکشی کو واضح کرتا ہے۔

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی خواہشات کو حق کے سامنے جھکانا چاہیے، نہ کہ حق کو اپنی خواہشات کے تابع کرنا چاہیے۔ بنی اسرائیل کا حال یہ تھا کہ جب کوئی رسول ان کی مرضی کے خلاف احکام لاتا تو وہ اسے رد کر دیتے یا اس سے دشمنی کرتے۔ یہی رویہ ان کے زوال کا سبب بنا۔

آج ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن اور سنت کو اپنی زندگی کا معیار بنائیں، اور جب بھی کوئی حکم ہماری خواہشات کے خلاف ہو، تو ہم اسے قبول کریں اور اپنی خواہشات کو اس کے سامنے جھکا دیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو معجزات دے کر ان کی صداقت ثابت کی، اور آج بھی قرآن ہمارے لیے سب سے بڑا معجزہ ہے جو قیامت تک زندہ ہے۔ ہمیں اس پر ایمان لانا چاہیے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 85-89 — بقرہ

85ثُمَّ أَنتُمْ هَٰؤُلَاءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِّنكُم مِّن دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِم بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أُسَارَىٰ تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کر دیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرکے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلہ دے کر ان کو چھڑا بھی لیتے ہو، حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا۔ (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتابِ (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو، تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو، خدا ان سے غافل نہیں
86أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی
87وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ ۖ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے، جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا، تو تم سرکش ہو جاتے رہے، اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے
88وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَل لَّعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ
اور کہتے ہیں، ہمارے دل پردے میں ہیں۔ (نہیں) بلکہ الله نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں
89وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُم مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ ۚ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ
اور جب الله کے ہاں سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے، تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے، جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہو گئے۔ پس کافروں پر الله کی لعنت
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
87آیت

ترجمہ — بقرہ 87

سورہ بقرہ آیت 87 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان…

سورہ آیت 87/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 85–89. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں