ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْبُدْنَ: جمع "بَدَنَة" ہے، جس کا مطلب ہے اونٹ، گائے اور بڑے جانور جو قربانی کے لیے بیت اللہ کی طرف بھیجے جائیں۔ انہیں "بُدن" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے جسم بڑے اور موٹے ہوتے ہیں۔
- شَعَائِرِ: شعائر اللہ یعنی اللہ کے دین کی علامتیں اور نشانیاں، جنہیں اللہ نے اپنی عبادت کے لیے مقرر کیا ہے۔
- صَوَافَّ: اس حالت میں کہ جانور کھڑا ہو اور اس کی تین ٹانگیں باندھ دی جائیں، ایک ٹانگ کھلی رہے۔ یہ اونٹ کی قربانی کا طریقہ ہے۔
- وَجَبَتْ: گر پڑی، زمین پر سقوط ہو گیا۔
- جُنُوبُهَا: اس کے پہلو، یعنی جانور کے زمین پر پہلو کے بل گرنے کے بعد۔
- الْقَانِعَ: وہ فقیر جو سوال نہیں کرتا، بلکہ قناعت کرتا ہے اور جو ملے اس پر صبر کرتا ہے۔
- الْمُعْتَرَّ: وہ فقیر جو سوال کرتا ہے یا جو خود آ کر کھانے کا طلب گار ہوتا ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں (خاص طور پر اونٹوں) کو اپنے دین کی علامتوں میں سے بنایا ہے۔ یہ اس لیے کہ مسلمان انہیں اللہ کی رضا کے لیے ذبح کریں اور اس طرح اپنی بندگی اور اطاعت کا اظہار کریں۔ ان جانوروں میں تمہارے لیے بہت سے فوائد ہیں: دنیاوی فوائد جیسے گوشت کھانا، چمڑا استعمال کرنا، اور دینی فوائد جیسے اللہ کا ثواب اور قربت۔
جب تم ان جانوروں کو ذبح کرو تو انہیں کھڑا کرو اور تین ٹانگیں باندھ دو، پھر "بسم اللہ واللہ اکبر" کہہ کر ذبح کرو۔ یہ اللہ کا نام لینا ضروری ہے، کیونکہ یہ عمل اللہ کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ کسی اور کے لیے۔ جب جانور زمین پر گر جائے اور اس کا پہلو زمین سے لگ جائے، تو اس کا گوشت کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ خاص طور پر دو قسم کے لوگوں کو کھلاؤ: ایک وہ فقیر جو سوال نہیں کرتا بلکہ قناعت کرتا ہے، اور دوسرا وہ جو سوال کرتا ہے یا خود آ کر کھانے کا طلب گار ہوتا ہے۔
اللہ نے ان بڑے اور طاقتور جانوروں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے، حالانکہ وہ بہت قوی ہیں، لیکن اللہ کی قدرت سے وہ تمہارے حکم کے تابع ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو، جو تم پر اتنا بڑا احسان کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانوں! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ قربانی صرف گوشت کھانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ کی عبادت، اس کی اطاعت، اور اس کی رضا کا ذریعہ ہے۔ جب ہم اپنے مال سے اللہ کی راہ میں قربانی کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنے دل سے دنیا کی محبت کو کم کرتے ہیں اور اللہ کی محبت کو بڑھاتے ہیں۔ قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اپنی جان، مال اور سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار رہیں، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم مانا۔
اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں یہ عظیم عبادت سکھائی، اور قربانی کے گوشت کو خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں، خاص طور پر غریبوں اور محتاجوں کو۔ اس طرح ہمارا مال پاک ہوگا، ہمارے دل صاف ہوں گے، اور ہم اللہ کے قریب ہوں گے۔ یاد رکھیں، اللہ کو تمہارا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ تمہارا تقویٰ اور خلوص پہنچتا ہے۔
📜 آیت 34-38 — حج
ترجمہ — حج 36
سورہ حج آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے…سورہ آیت 36/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








