Wa maaa arsalnaa min qablika mir Rasoolinnw wa laa Nabiyyin illaaa izaaa tamannaaa alqash Shaitaanu feee umniy yatihee fa yansakhul laahu maa yulqish Shaitaanu summa yuhkimul laahu aayaatih; wallaahu `Aleemun Hakeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیتا تھا۔ تو جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے۔ اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
ما پيش از تو هيچ رسول يا نبيى را نفرستاديم مگر آنكه چون به خواندن آيات مشغول شد شيطان در سخن او چيزى افكند. و خدا آنچه را كه شيطان افكنده بود نسخ كرد، سپس آيات خويش را استوارى بخشيد. و خدا دانا و حكيم است.
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیتا تھا۔ تو جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے۔ اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَمَنَّىٰ: یعنی تلاوت کی، پڑھا۔
أُمْنِيَّتِهِ: اس کی قراءت و تلاوت۔
يَنسَخُ: مٹا دیتا ہے، باطل کر دیتا ہے۔
يُحْكِمُ: مضبوط اور محکم فرماتا ہے۔
تفسیرِ آیہ:
اے محبوب نبی! آپ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ سے پہلے جو بھی رسول یا نبی مبعوث ہوئے، ان کی تلاوتِ قرآن کے دوران شیطان نے ہمیشہ اپنے وساوس اور شُبہات کو ان کی قراءت میں ملا دینے کی کوشش کی، تاکہ لوگ ان کی تعلیمات سے بھٹک جائیں۔ یہ شیطان کی پرانی چال ہے جو ہر نبی کے ساتھ ہوتی رہی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ خود اپنے کلام کی حفاظت فرماتا ہے۔ جو کچھ بھی شیطان ڈالتا ہے، اللہ اسے فوراً مٹا دیتا ہے اور باطل کر دیتا ہے، پھر اپنی واضح اور روشن آیات کو محکم اور ثابت قدم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے، کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں، اور وہ اپنے معاملات میں بےحد حکمت والا ہے۔
یہ آیت نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی جب مشرکین نے آپ کی تلاوت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی اور جھوٹی افواہیں پھیلائیں کہ آپ نے ان کے معبودوں کی تعریف کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرما دیا کہ یہ سب شیطانی وسوسے تھے، نبی ﷺ اس سے پاک و صاف ہیں، اور اللہ نے ان وساوس کو باطل کر کے اپنی آیات کو غالب فرما دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت کا ذمہ خود لیتا ہے۔ شیطان چاہے کتنی ہی کوشش کر لے، اللہ کا کلام اور اس کا دین ہمیشہ غالب رہے گا۔ ہمیں چاہیے کہ جب بھی کوئی شخص قرآن یا سنت کے خلاف کوئی بات پھیلانے کی کوشش کرے، تو ہم گھبرائیں نہیں، بلکہ یقین رکھیں کہ اللہ خود اپنے دین کی حفاظت کرے گا۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نبی ﷺ سے محبت اور ان کی عصمت پر ایمان مضبوط کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ نے اپنے انبیاء کو ہر قسم کی غلطی اور شیطانی اثر سے پاک رکھا ہے۔ یہ آیت ہمارے ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے کہ حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے، اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیتا تھا۔ تو جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے۔ اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے
غرض (اس سے) یہ ہے کہ جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے اس کو ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں ذریعہ آزمائش ٹھہرائے۔ بےشک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں
اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل خدا کے آگے عاجزی کریں۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا ان کو سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔