نور · 22/64
ترجمہ تلفظ — نور
وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝٢٢
Wa laa yaatali ulul fadli minkum wassa`ati ai yu`tooo ulil qurbaa walmasaakeena walmuhaajireena fee sabeelillaahi walya`foo walyasfahoo; alaa tuhibboona ai yaghfiral laahu lakum; wal laahu Ghafoorur Raheem
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تم کو بخش دے؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • وَلَا يَأْتَلِ: قسم نہ کھائے، حلف نہ کرے۔
  • أُولُو الْفَضْلِ: فضل و بزرگی والے، دین میں سبقت رکھنے والے۔
  • السَّعَةِ: کشادگی، وسعت (مال و دولت میں فراخی
  • أَن يُؤْتُوا: اس بات پر کہ وہ نہ دیں (یعنی ترکِ عطا پر قسم نہ کھائیں
  • وَلْيَعْفُوا: اور انہیں معاف کر دیں۔
  • وَلْيَصْفَحُوا: اور درگزر کریں، چشم پوشی کریں۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور صاحبِ ثروت بندوں کو مخاطب کر کے انہیں ایک اعلیٰ اخلاقی سبق سکھا رہے ہیں۔ پس منظر یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے رشتہ دار مسطح بن اثاثہ پر ناراض ہو گئے تھے کیونکہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں کی بات میں حصہ لیا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ وہ مسطح کو مزید مالی امداد نہیں دیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو لوگ دین میں فضیلت رکھتے ہیں اور جنہیں اللہ نے مالی وسعت دی ہے، وہ اس بات پر قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو خرچ نہیں دیں گے۔ اگر کسی نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نیکی اور صلہ رحمی ترک کر دیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں حکم دیتے ہیں کہ وہ معاف کریں اور درگزر کریں۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک بہت ہی پیارا اور اثر انگیز سوال کرتا ہے: "کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟" یہ ایک ایسا سوال ہے جو دل کو جھنجوڑ دیتا ہے۔ جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ کی غلطیوں سے درگزر کرے، اسی طرح آپ کو بھی اپنے بھائیوں کی غلطیوں سے درگزر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات بیان فرمائیں کہ وہ غفور (بہت معاف کرنے والا) اور رحیم (بہت مہربان) ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جب کوئی ہمارے ساتھ برا سلوک کرے تو ہم بدلہ لینے کی بجائے معاف کرنے کا رویہ اپنائیں۔ معاف کرنے والے کا درجہ اللہ کے ہاں بہت بلند ہے۔ یاد رکھیں! جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرے، اسی طرح آپ بھی دوسروں کی غلطیوں کو معاف کریں۔ یہی تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں دنیا و آخرت میں عزت عطا فرماتا ہے۔ آئیے! ہم اپنے دلوں سے کینہ اور نفرت نکال کر معاف کرنے والے بنیں، کیونکہ معافی ہی وہ چیز ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے اور معاشرے میں محبت و اخوت پیدا کرتی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 20-24 — نور

20وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور یہ کہ خدا نہایت مہربان اور رحیم ہے
21۞ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَن يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۚ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اے مومنو! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا۔ اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بےحیائی (کی باتیں) اور برے کام ہی بتائے گا۔ اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہوسکتا۔ مگر خدا جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
22وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تم کو بخش دے؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
23إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بےخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا وآخرت (دونوں) میں لعنت ہے۔ اور ان کو سخت عذاب ہوگا
24يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں سب ان کے کاموں کی گواہی دیں گے
نورقرآن فہرست
64آیت
مدنیRevelation
22آیت

ترجمہ — نور 22

سورہ نور آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت…

سورہ آیت 22/64 — نور النور (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نور سنیں, نور ترجمہ, نور mp3, نور pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں