Alam tara annal laaha yusabbihu lahoo man fissamaawaati wal ardi wat tairu saaaffaatim kullun qad `alima Salaatahoo wa tasbeehah; wallaahu `aleemum bimaa yaf`aloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا نديدهاى كه هر چه در آسمانها و زمين است و نيز مرغانى كه در پروازند تسبيح گوى خدا هستند؟ همه نماز و تسبيح او را مىدانند. و خدا به هر كارى كه مىكنند آگاه است.
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُسَبِّحُ: پاکی بیان کرتا ہے، تقدیس کرتا ہے۔
صَافَّاتٍ: پر پھیلائے ہوئے، پروں کو پھیلا کر اڑنے والے۔
صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ: اس کی عبادت اور اس کی تسبیح (یعنی ہر مخلوق کا اپنا مخصوص طریقہ عبادت اور تسبیح)۔
تفسیر:
اے نبی! کیا تم نے نہیں دیکھا اور غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں وہ تمام مخلوقات جو آسمانوں میں ہیں اور وہ بھی جو زمین میں ہیں؟ اور پرندے بھی اپنے پروں کو پھیلا کر (ہوا میں) اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ ہر مخلوق نے اپنی اپنی عبادت اور تسبیح کا طریقہ اللہ سے سیکھ رکھا ہے، یعنی ہر ایک کو اللہ نے اس کی عبادت اور تسبیح کا علم عطا کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال سے خوب واقف ہے جو یہ مخلوقات انجام دیتی ہیں، اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومن کے دل میں اللہ کی عظمت اور کبریائی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز، چاہے وہ آسمانوں کی بلندیاں ہوں یا زمین کی وسعتیں، چاہے پرندے اپنی پرواز میں ہوں یا درخت اپنی جڑوں میں، سب اللہ کی تسبیح میں مصروف ہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی زبان، اپنے دل اور اپنے اعمال سے اللہ کی عبادت کریں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت صرف نماز اور روزہ تک محدود نہیں، بلکہ ہر عمل جو اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، وہ عبادت ہے۔ پرندے بھی اپنی فطرت کے مطابق اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، تو ہم انسانوں کو تو اور بھی زیادہ اپنے خالق کو یاد رکھنا چاہیے۔ اللہ ہر عمل سے باخبر ہے، اس لیے ہمیں اپنے اعمال کو بہتر بنانا چاہیے اور اللہ کی رضا کے لیے کام کرنا چاہیے۔ یہی کامیابی اور سعادت کا راستہ ہے۔
جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آئے تو اسے کچھ بھی نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اسے اس کا حساب پورا پورا چکا دے۔ اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے
یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چڑھی چلی آتی ہو اور اس کے اوپر اور لہر (آرہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو، غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں، ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ دیکھ سکے۔ اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے، اور ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں، ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے۔ اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرکے بینائی کو اُچکے لئے جاتی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔