شعراء · 22/227
ترجمہ تلفظ — شعراء
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ ۝٢٢
Wa tilka ni`matun tamun nuhaa `alaiya an `abbatta Baneee Israaa`eel
📖 اردو ترجمہ
اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نِعْمَةٌ: احسان، بخشش
  • تَمُنُّهَا عَلَيَّ: تُو مجھ پر احسان جتلاتا ہے
  • عَبَّدتَّ: تُو نے غلام بنا لیا

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے اس الزام کے جواب میں کہ "ہم نے تجھے بچپن میں پالا پوسا اور تیری پرورش کی"، بڑے ہی مدلل اور حکمت بھرے انداز میں فرمایا: "اور کیا یہ وہ احسان ہے جو تُو مجھ پر جتلاتا ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے؟"

یعنی اے فرعون! تُو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے کہ میں تیرے گھر میں پلا بڑھا، لیکن یہ احسان کس قیمت پر حاصل ہوا؟ تُو نے میری قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے، ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا ہے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھ کر انہیں اپنی خدمت گزار بناتا ہے۔ کیا یہ احسان جتانے کے قابل ہے؟ جو شخص اپنی قوم کو غلام بنائے، وہ کسی پر احسان نہیں کر سکتا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ جواب انتہائی فصیح و بلیغ تھا۔ انہوں نے فرعون کو اس کے جال میں پھنسایا کہ اگر تُو واقعی احسان کرنے والا ہے تو پہلے بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کر، پھر احسان جتا۔ یہ ایک زبردست منطقی دلیل تھی جس نے فرعون کو کوئی جواب نہیں دیا۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ احسان جتانا خود احسان کو ضائع کر دیتا ہے۔ نیز یہ کہ ظلم و جبر پر مبنی تعلقات کبھی احسان نہیں بن سکتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے اس جواب سے یہ بھی ثابت کیا کہ حق بات کہنے میں کسی کی رعایت نہیں کرنی چاہیے، چاہے وہ بڑے سے بڑا حکمران ہی کیوں نہ ہو۔

یہ وہی راستہ ہے جو اللہ کے نیک بندے اختیار کرتے ہیں - وہ ظلم کے سامنے سر نہیں جھکاتے، چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ اللہ ہمیں بھی حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 20-24 — شعراء

20قَالَ فَعَلْتُهَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ
(موسیٰ نے) کہاں (ہاں) وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں تھا
21فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ
تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو تم میں سے بھاگ گیا۔ پھر خدا نے مجھ کو نبوت وعلم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا
22وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ
اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
23قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ
فرعون نے کہا کہ تمام جہان مالک کیا
24قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ
کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو
شعراءقرآن فہرست
227آیت
مکیRevelation
22آیت

ترجمہ — شعراء 22

سورہ شعراء آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے…

سورہ آیت 22/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں