ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رَبُّ الْعَالَمِینَ: تمام مخلوقات کا مالک، پالنے والا اور ان کی تربیت کرنے والا۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے اپنی رسالت کا دعویٰ پیش کیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، تو فرعون نے اپنی سرکشی اور تکبر کے ساتھ یہ سوال کیا: "اور وہ رب العالمین کیا چیز ہے؟" اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو الجھائے اور ان کی دعوت کو کمزور کرے۔ فرعون نے یہ سوال اس لیے کیا کیونکہ وہ خود کو "رب اعلیٰ" کہتا تھا اور اپنی قوم کو یہ باور کراتا تھا کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام جس رب کی طرف بلاتے ہیں، وہ کون ہے؟ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اللہ ہی تمام مخلوقات کا خالق اور مالک ہے، لیکن اس کا انکار اور استہزاء اس کی سرکشی کی انتہا تھی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کے داعی کو جب بھی مخالفین کی طرف سے ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑے جو محض الجھانے اور تضحیک کے لیے ہوں، تو اسے ثابت قدم رہنا چاہیے اور اپنے رب کی عظمت اور کبریائی کا اعلان کرتے رہنا چاہیے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے اس سوال کا جواب دیا، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی عظیم صفات کا ذکر کریں اور لوگوں کو اس کی طرف بلائیں۔ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی رب ہے، جو تمام جہانوں کا خالق، مالک اور پالنے والا ہے، اور اسی کی عبادت ہی انسان کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
📜 آیت 21-25 — شعراء
ترجمہ — شعراء 23
سورہ شعراء آیت 23 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرعون نے کہا کہ تمام جہان مالک کیاسورہ آیت 23/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 21–25. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








