ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- دَخَلُوا قَرْيَةً: کسی بستی میں زبردستی داخل ہوں، فتح کریں۔
- أَفْسَدُوهَا: اسے تباہ و برباد کر دیں، خرابی پھیلا دیں۔
- أَعِزَّةَ: عزت والوں کو، سرداروں اور معزز لوگوں کو۔
- أَذِلَّةً: ذلیل و خوار کر دیں۔
تفسیر:
ملکہ بلقیس نے اپنی قوم کے سرداروں کو سلیمان علیہ السلام کے خط کے بارے میں مشورہ دیتے ہوئے یہ حکمت بھری بات کہی۔ انہوں نے جنگ کے انجام سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: بادشاہ جب کسی بستی میں فوج کشی کرتے ہیں اور زبردستی داخل ہوتے ہیں تو وہ اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں، اس کے معزز اور سردار لوگوں کو ذلیل و خوار کر دیتے ہیں، قتل و غارت گری کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ یہ بادشاہوں کا ہمیشہ سے طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنی دھاک اور رعب قائم رکھنے کے لیے ایسا ہی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس بات کی تصدیق فرمائی کہ بلقیس نے سچ کہا تھا، بادشاہوں کا یہی حال رہا ہے۔
یہاں سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ظالم حکمران اور طاقت ور لوگ جب کسی قوم پر قابو پاتے ہیں تو ان کا مقصد صرف اپنی حکومت اور عزت قائم رکھنا ہوتا ہے، چاہے اس کے لیے انہیں کتنا ہی ظلم کیوں نہ کرنا پڑے۔ وہ لوگوں کی عزتوں کو پامال کرتے ہیں، ان کی دولت لوٹتے ہیں اور انہیں اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کرتے ہیں۔
لیکن سلیمان علیہ السلام کا طریقہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ وہ نبی تھے، ان کی حکومت عدل و انصاف پر قائم تھی، وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے تھے، نہ کہ اپنی بڑائی کے لیے۔ یہی فرق ہے ایک نبی کی حکومت اور عام بادشاہوں کی حکومت میں۔ نبی رحمت اور ہدایت لے کر آتا ہے، جبکہ بادشاہ اپنی سلطنت بڑھانے کے لیے تباہی پھیلاتا ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ حکمت اور تدبر سے کام لینا چاہیے۔ بلقیس نے جنگ سے پہلے تحفہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ معاملہ پرامن طریقے سے حل ہو جائے۔ یہ ایک عقلمند حکمران کی خوبی ہے کہ وہ جلد بازی میں جنگ کا فیصلہ نہیں کرتا بلکہ سفارت کاری اور حکمت عملی سے کام لیتا ہے۔ ہمیں بھی اپنے معاملات میں صبر اور حکمت سے کام لینا چاہیے، اور جہاں تک ممکن ہو امن و صلح کو ترجیح دینی چاہیے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں ایسے ذرائع سے کامیابی عطا فرماتا ہے جن کا اندازہ وہ خود بھی نہیں لگا سکتے۔ سلیمان علیہ السلام کو اللہ نے ایسی حکومت اور علم عطا کیا تھا جو کسی اور کو نہیں دیا گیا، اور یہ سب اللہ کی رحمت اور فضل سے تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بھی حکمت، صبر اور نیک فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
📜 آیت 32-36 — نمل
ترجمہ — نمل 34
سورہ نمل آیت 34 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل…سورہ آیت 34/93 — نمل النمل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نمل سنیں, نمل ترجمہ, نمل mp3, نمل pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








