نمل · 35/93
ترجمہ تلفظ — نمل
وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ ۝٣٥
Wa innee mursilatun ilaihim bihadiyyatin fanaaziratum bima yarji`ul mursaloon
📖 اردو ترجمہ
اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مُرسِلَةٌ: بھیجنے والی
  • ہَدِیَّةٍ: تحفہ، سوغات
  • فَنَاظِرَةٌ: پھر دیکھنے والی ہوں گی
  • بِمَ: کس چیز کے ساتھ، کس نتیجہ کے ساتھ
  • یَرجِعُ المُرْسَلُونَ: قاصد لوٹ کر آئیں گے

تفسیر:

ملکہ بلقیس نے اپنی قوم کے سرداروں اور مشیروں سے مشورہ کرنے کے بعد یہ رائے ظاہر کی کہ ہمیں سلیمان علیہ السلام سے براہِ راست ٹکراؤ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں اور وہاں کے معزز لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں۔ یہ ان کا ہمیشہ سے طریقہ رہا ہے۔ اس لیے انہوں نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے کہا: "میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجتی ہوں" — یعنی قیمتی اور نایاب اشیاء سے بھرا ہوا تحفہ، تاکہ میں ان کے ارادوں کو جانچ سکوں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر سلیمان علیہ السلام واقعی بادشاہ ہیں تو وہ تحفہ قبول کر لیں گے اور معاملہ ختم ہو جائے گا، لیکن اگر وہ نبی ہیں تو تحفہ قبول نہیں کریں گے اور ہمیں اپنے فیصلے کے لیے راہ مل جائے گی۔ چنانچہ انہوں نے کہا: "پھر میں دیکھوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں" — یعنی میں انتظار کروں گی کہ وہ تحفہ قبول کرتے ہیں یا رد کرتے ہیں، اور ان کی طرف سے کیا پیغام آتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حکمت اور تدبیر سے کام لینا بھی ایک عظیم خوبی ہے۔ ملکہ بلقیس نے جنگ کی بجائے سفارت کاری اور تحفے کا راستہ چنا، جو عقل مندی کی علامت ہے۔ اسلام بھی ہمیں سکھاتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، امن اور حکمت سے معاملات طے کریں۔ نیز یہ کہ تحفہ دینا اور وصول کرنا محبت اور خیر سگالی کا ذریعہ ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "آپس میں تحفے دو، محبت بڑھے گی۔" لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب سلیمان علیہ السلام کو تحفہ پہنچا تو انہوں نے فرمایا: "کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے۔" یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کا مال و دولت اللہ کے نبیوں کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ اصل چیز اللہ کی رضا اور اس کا دین ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ دنیاوی چیزوں کو اہمیت دینے کی بجائے آخرت کی کامیابی کو پیشِ نظر رکھیں اور ہر معاملے میں حکمت اور صبر سے کام لیں۔



📜 آیت 33-37 — نمل

33قَالُوا نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ وَالْأَمْرُ إِلَيْكِ فَانظُرِي مَاذَا تَأْمُرِينَ
وہ بولے کہ ہم بڑے زورآور اور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار ہے تو جو حکم دیجیئے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجیئے گا
34قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ
اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کر دیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے
35وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ
اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں
36فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ
جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو، جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہوگے
37ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ
ان کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی ان میں طاقت نہ ہوگی اور ان کو وہاں سے بےعزت کرکے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے
نملقرآن فہرست
93آیت
مکیRevelation
35آیت

ترجمہ — نمل 35

سورہ نمل آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور…

سورہ آیت 35/93 — نمل النمل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نمل سنیں, نمل ترجمہ, نمل mp3, نمل pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں