Ammany-yujeebul mud tarra izaa da`aahu wa yakshifussooo`a wa yaj`alukum khula faaa`al ardi `a-ilaahum ma`al laahi qaleelam maa tazak karoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
يا آن كه درمانده را چون بخواندش پاسخ مىدهد و رنج از او دور مىكند و شما را در زمين جانشين پيشينيان مىسازد. آيا با وجود اللّه خداى ديگرى هست؟ چه اندك پند مىگيريد.
بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
المضطر: وہ شخص جس پر مصیبت آپڑی ہو، جس کی کوئی مدد نہ کر سکتا ہو، جو تنگ دست اور بے کس ہو۔
یکشف السوء: تکلیف، پریشانی، بیماری، فقر اور ہر قسم کی مصیبت کو دور کرتا ہے۔
خلفاء الارض: زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بناتا ہے، پہلے لوگوں کے بعد تمہیں آباد کرتا ہے۔
قلیلا ما تذکرون: تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو، یعنی تمہارا تذکرہ (نصیحت پکڑنا) بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ان کے معبودوں کی بےبسی اور اپنی عظیم قدرت کا مقابلہ دکھا رہے ہیں۔ فرمایا جا رہا ہے: کیا وہ معبود جنہیں تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو، بہتر ہیں، یا وہ ذات جو تنگ دست اور بےکسی کی حالت میں پہنچے ہوئے بندے کی پکار سنتی ہے؟ جب کوئی شخص مصیبت میں گھِر جاتا ہے، اس کی سانس پھول جاتی ہے، کوئی سہارا نہیں ملتا، تو وہ اپنے دل کی گہرائی سے صرف اللہ کو پکارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی دعا سنتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے۔ وہ بیماری کو شفا سے، فقر کو دولت سے، خوف کو امن سے بدل دیتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے کہ وہ تمہیں زمین میں ایک کے بعد ایک جانشین بناتا ہے۔ تم سے پہلے قومیں تھیں، وہ ختم ہوئیں، اب تم ان کی جگہ آباد ہو۔ یہ اللہ کی قدرت اور رحمت ہے کہ وہ تمہیں زمین پر رہنے کی مہلت دیتا ہے اور تمہیں قوت و اقتدار عطا کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ استفہامی انداز میں فرماتا ہے: کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جو یہ سب کچھ کر سکتا ہو؟ ہرگز نہیں! یہ سب کچھ صرف اللہ کرتا ہے۔ لیکن تم لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو، تمہارا غور و فکر بہت کم ہے، اسی لیے تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہترین سبق ہے کہ جب بھی کوئی مشکل آئے، کسی بندے کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں، بلکہ سیدھے اللہ سے جڑیں۔ اللہ وہی ہے جو مصیبت میں کام آتا ہے، وہی ہے جو پکارنے والے کی پکار سنتا ہے۔ آج بھی لاکھوں لوگ ہیں جنہوں نے خلوص دل سے اللہ کو پکارا اور اللہ نے ان کی مشکلات حل فرما دیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں اللہ کی طرف رجوع کریں، اسی کی عبادت کریں اور اسی سے مدد مانگیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اُگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم اُن کے درختوں کو اگاتے۔ تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہو رہے ہیں
بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے بیچ نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے
بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو
بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بناتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بناکر بھیجتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) ۔ یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے
بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا۔ پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔