جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
از ميان شما آنان كه در روز مقابله آن دو گروه بگريختند، به سبب پارهاى از اعمالشان شيطان آنها را به خطا افكنده بود. اينك خداوند عفوشان كرد كه او آمرزنده و بردبار است.
جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَوَلَّوْا: پیٹھ پھیر کر بھاگے، میدانِ جنگ سے فرار ہوئے۔
الْتَقَى الْجَمْعَانِ: دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے، یعنی مسلمانوں اور مشرکین کا لشکر۔
اسْتَزَلَّهُمُ: انہیں پھسلانے کی کوشش کی، انہیں لغزش میں ڈالا۔
بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا: ان کے کچھ اعمال (گناہوں) کی وجہ سے۔
عَفَا: معاف کر دیا، درگزر فرمایا۔
حَلِيمٌ: بردبار، جلدی سزا دینے والا نہیں۔
تفسیر:
اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اصحاب! تم میں سے جن لوگوں نے غزوۂ اُحد کے دن، جب مسلمانوں اور مشرکین کے دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے، پیٹھ پھیر کر میدانِ جنگ چھوڑ دیا تھا، ان کے بارے میں جان لو کہ یہ پسپائی اور فرار محض ان کی اپنی کمزوری نہ تھی، بلکہ شیطان نے ان کے کچھ پہلے کیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے انہیں پھسلانے اور لغزش میں ڈالنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ شیطان نے ان کے دل میں خوف ڈالا اور انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت سے ہٹ کر اپنی رائے پر چلنے کی ترغیب دی، جس کی وجہ سے وہ اس مقام پر جمے نہ رہ سکے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان پر رحم فرمایا اور ان کی اس غلطی سے درگزر کیا۔ اللہ نے انہیں اس لغزش پر گرفت نہیں کی، بلکہ ان کے دلوں کو تسلی دی اور ان کی توبہ قبول فرمائی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہے، اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے، اور وہ حلیم ہے یعنی بردبار ہے، وہ جلدی میں نہیں ہے، عاصی بندوں کو فوراً سزا نہیں دیتا، بلکہ انہیں توبہ اور رجوع کا موقع دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کا بہت خوبصورت انداز میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے ان صحابہ کرام کو تنبیہ کی کہ ان کا فرار شیطان کے بہکانے کی وجہ سے تھا، لیکن دوسری ہی طرف انہیں یہ خوشخبری دی کہ اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے، چاہے وہ کتنی ہی بڑی غلطی کر بیٹھیں، بشرطیکہ وہ خلوص دل سے توبہ کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔ اللہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے، وہ اپنے بندوں کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور ان پر مہربانی کرنے والا ہے۔ ہمیں بھی اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہو کر اللہ سے معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ اللہ غفور و حلیم ہے، وہ اپنے توبہ کرنے والے بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔
(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول الله تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہ ناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے
جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے
مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی جب (خدا کی راہ میں) سفر کریں (اور مر جائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
سورہ آل عمران آیت 155 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں…
سورہ آیت 155/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 153–157. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔