ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَحَسَّ: محسوس کیا، جان لیا، یا یقین کر لیا۔
- الْكُفْرَ: کفر، انکارِ حق۔
- أَنصَارِي: میرے مددگار، میری حمایت کرنے والے۔
- الْحَوَارِیُّونَ: خالص دوست، صاف دل اور پاکیزہ نیت رکھنے والے ساتھی۔
تفسیر:
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی طرف سے کفر اور انکارِ حق کا قطعی ارادہ دیکھ لیا، اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ حق کو قبول کرنے کے بجائے ضد اور سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا، تو آپ نے اپنے خالص اور مخلص ساتھیوں کو پکارا اور فرمایا: "کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار بنے؟ کون ہے جو میرے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی نصرت کرے؟" یہ ایک دعوت تھی، ایک امتحان تھا، اور ایک واضح اعلان تھا کہ حق کے راستے میں قربانی دینے والوں کی ضرورت ہے۔
اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خالص اور برگزیدہ ساتھیوں (حواریوں) نے بلا تامل اور پورے یقین کے ساتھ جواب دیا: "ہم اللہ کے مددگار ہیں! ہم اللہ پر ایمان لائے، ہم نے تیری دعوت کو قبول کیا، اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں، یعنی ہم نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کر دیا ہے، اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔"
یہ وہ عظیم لمحہ تھا جب ایمان اور ایثار کی آزمائش ہوئی، اور حواریوں نے ثابت کر دیا کہ وہ سچے ساتھی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف زبانی ایمان کا اقرار کیا بلکہ عملی طور پر اللہ کے دین کی نصرت کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
- حق کی راہ میں مددگاروں کی ضرورت: ہر دور میں اللہ کے دین کو ایسے مخلص افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو بلا خوف و خطر حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔ آج بھی ہمیں حواریوں کی طرح تیار رہنا چاہیے کہ جب بھی اسلام کو مدد کی ضرورت ہو، ہم آگے بڑھیں۔
- ایمان کا تقاضا: حواریوں نے کہا "آمَنَّا بِاللّهِ" یعنی ہم ایمان لائے، لیکن صرف ایمان کافی نہیں، بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا "وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ" یعنی ہم مسلمان ہیں، مکمل طور پر اللہ کے تابع فرمان۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کے ساتھ عملی اطاعت ضروری ہے۔
- بے خوف ہو کر حق بولنا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کفر کو دیکھ کر خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ کھل کر مدد طلب کی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جب باطل کو فروغ ملتا دیکھیں تو حق کی حمایت میں آواز اٹھائیں۔
- اخلاص اور پاکیزگی: حواریوں کا نام "حواری" اس لیے رکھا گیا کیونکہ وہ خالص، پاکیزہ اور سفید دل تھے۔ ہمیں بھی اپنے دلوں کو پاک رکھنا چاہیے تاکہ اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہو۔
آج اگر ہم حواریوں کی طرح اللہ کے دین کے مددگار بن جائیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں بھی وہ عزت اور نصرت عطا فرمائے گا جو اس نے اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا کی۔ اللہ ہمیں اپنے دین کا خادم بنائے اور ہمیں حواریوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 50-54 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 52
سورہ آل عمران آیت 52 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب عیسیٰؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی اور (نیت…سورہ آیت 52/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








