آل عمران · 75/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
۞ وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَّا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ۝٧٥
Wa min Ahlil Kitaabi man in taamanhu biqintaariny yu`addihee ilaika wa minhum man in taamanhu bideenaaril laa yu`addiheee ilaika illaa maa dumta `alaihi qaaa` imaa; zaalika biannahum qaaloo laisa `alainaa fil ummiyyeena sabeelunw wa yaqooloona `alal laahil kaziba wa hum ya`lamoon
📖 اردو ترجمہ
اور اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس (روپوں کا) ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فوراً) واپس دے دے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا پر محض جھوٹ بولتے ہیں اور (اس بات کو) جانتے بھی ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

بسم اللہ الرحمن الرحیم

معانی الفاظ:

  • قِنطَار: بہت زیادہ مال، ڈھیروں دولت۔
  • دِینَار: تھوڑی مقدار میں سونا یا چاندی کا سکہ، معمولی رقم۔
  • اُمِّیِّین: وہ لوگ جو کتاب نہیں رکھتے، خاص طور پر عرب۔
  • سَبِیل: راستہ، یہاں اعتراض یا گرفت کا ذریعہ، گناہ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل کتاب (یہود) کے دو مختلف کرداروں کا ذکر فرما رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو ان کے معاملات میں ہوشیاری آئے اور وہ ہر ایک پر اندھا بھروسہ نہ کریں۔

فرمایا: اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ اگر آپ ان کے پاس ڈھیروں مال بطور امانت رکھ دیں تو وہ اسے بخیریت واپس کر دیں گے، ان کی امانت داری اور دیانت داری قابلِ تعریف ہے۔ لیکن انہیں میں کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر آپ ان کے پاس ایک معمولی دینار بھی امانت رکھیں تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے، جب تک کہ آپ ان کے سامنے کھڑے ہو کر سختی سے تقاضا نہ کریں اور انہیں مجبور نہ کریں۔ یعنی جب تک آپ ان پر مسلط نہ ہوں، وہ حق واپس کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی اصل وجہ بیان فرمائی: یہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے دلوں میں یہ غلط عقیدہ بٹھا رکھا ہے کہ "اُمّیوں" یعنی غیر یہودیوں (خاص طور پر عربوں) کے اموال کھانے میں کوئی گناہ نہیں، کوئی گرفت نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اللہ نے ان کے مال ان کے لیے حلال کر دیے ہیں۔ یہ بات وہ اللہ پر بہتان باندھ کر کہتے ہیں، حالانکہ وہ خود جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے اور ان کی کتاب میں ایسی کوئی اجازت موجود نہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:

  1. امانت داری اور دیانت داری اسلام کا بنیادی اخلاق ہے۔ چاہے کسی سے معاملہ ہو، مسلمان کو ہمیشہ سچا اور دیانت دار ہونا چاہیے۔ یہی وہ صفت ہے جس کی بنا پر نبی کریم ﷺ کو "امین" کہا جاتا تھا۔
  2. کسی قوم یا گروہ کے بارے میں یکساں رائے قائم نہ کریں - جس طرح اہل کتاب میں نیک اور بد دونوں تھے، اسی طرح ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ ہمیں انصاف اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔
  3. اللہ پر جھوٹ باندھنا انتہائی سنگین جرم ہے۔ جو لوگ اپنے مفاد کے لیے اللہ کے نام پر جھوٹ بولتے ہیں، وہ آخرت میں سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ہمیں ہمیشہ اللہ کے دین کو صحیح طور پر سمجھنا چاہیے اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق اللہ کی شریعت کو موڑے۔
  4. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاملات میں ہوشیار رہیں - اسلام ہمیں حکمت اور بصیرت کے ساتھ معاملات کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ دوسروں پر بھروسہ کریں لیکن احتیاط بھی کریں، کیونکہ ہر شخص بھروسے کے قابل نہیں ہوتا۔
  5. حق واپس کرنا اور امانت ادا کرنا ایمان کی نشانی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس میں امانت نہیں، اس میں ایمان نہیں۔" ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں پوری دیانت داری اختیار کریں، چاہے سامنے والا کوئی بھی ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی، دیانت داری اور امانت داری کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جھوٹ اور خیانت سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 73-77 — آل عمران

73وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ الْهُدَىٰ هُدَى اللَّهِ أَن يُؤْتَىٰ أَحَدٌ مِّثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ ۗ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے روبرو قائل معقول کر سکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے
74يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
75۞ وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَّا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
اور اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس (روپوں کا) ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فوراً) واپس دے دے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا پر محض جھوٹ بولتے ہیں اور (اس بات کو) جانتے بھی ہیں
76بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ وَاتَّقَىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
77إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
75آیت

ترجمہ — آل عمران 75

سورہ آل عمران آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ…

سورہ آیت 75/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں