وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَخْتَصُّ: کسی کو خاص کرنا، چن لینا۔
بِرَحْمَتِهِ: اپنی رحمت سے، جس میں نبوت، ہدایت اور فضل و کرم شامل ہے۔
ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ: بڑے فضل والا، جس کا فضل بے حد و حساب ہے۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ وہ اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے خاص کرتا ہے۔ یعنی نبوت، ہدایت، علمِ دین اور ہر قسم کی بھلائی اسی کے اختیار میں ہے، وہ جسے چاہے یہ عظیم نعمتیں عطا فرمائے۔ یہ بات اہلِ کتاب کے اس غلط خیال کی تردید ہے کہ نبوت اور فضلِ الٰہی صرف بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص ہے، حالانکہ اللہ کا فضل عام ہے اور وہ جسے چاہے اپنے فضل سے نوازے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے ہدایت کی توفیق دے، جسے چاہے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمائے، اور جسے چاہے علم و عمل کی دولت عطا کرے۔ یہ سب کچھ اس کی مشیت اور حکمت پر مبنی ہے، کوئی اس پر جبر نہیں کر سکتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل بہت عظیم ہے، اس کی رحمت سے کوئی مایوس نہ ہو۔ آج بھی جو شخص خلوص نیت سے اللہ سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ اسے اپنی خاص رحمت سے نوازتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے فضل کی امید رکھیں، اس کی رحمت کے طلب گار بنیں، اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے سرفراز فرماتا ہے۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام کی آمد کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا، لیکن اللہ کا فضل اور اس کی رحمت قیامت تک جاری ہے۔ ہر وہ شخص جو قرآن و سنت پر عمل کرتا ہے، اللہ کے فضل کا امیدوار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت کا خاص حصہ عطا فرمائے اور ہمیں اپنے فضل سے نوازے۔ آمین۔
اور اہلِ کتاب ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جو (کتاب) مومنوں پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو اور اس کے آخر میں انکار کر دیا کرو تاکہ وہ (اسلام سے) برگشتہ ہو جائیں
اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے روبرو قائل معقول کر سکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے
اور اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس (روپوں کا) ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فوراً) واپس دے دے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا پر محض جھوٹ بولتے ہیں اور (اس بات کو) جانتے بھی ہیں
سورہ آل عمران آیت 74 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کر…
سورہ آیت 74/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 72–76. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔