روم · 33/60
ترجمہ تلفظ — سورہ روم
وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ ۝٣٣
Wa izaa massan naasa durrun da`aw Rabbahum muneebeena ilaihi summa izaaa azaqahum minhu rahmatan izaa fareequm minhum be Rabbihim yushrikoon
📖 اردو ترجمہ
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ضُرّ: تکلیف، مصیبت، بیماری، فقر یا قحط۔
  • مُّنِیبِینَ: رجوع کرنے والے، توبہ کرنے والے، یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہونے والے۔
  • أَذَاقَهُم: چکھایا، دے دیا۔
  • رَحْمَةً: نعمت، رحمت، کشائش اور خوشحالی۔

تفسیر:

جب انسانوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے—خواہ وہ بیماری ہو، فقر ہو، قحط ہو یا کوئی اور مصیبت—تو وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور اس سے مدد مانگتے ہیں۔ اس وقت وہ اپنے دل کی گہرائی سے صرف اللہ کو یاد کرتے ہیں، اس کے سامنے عاجزی اور نیازمندی سے جھک جاتے ہیں، اور اپنی ساری امیدیں اسی پر لگا دیتے ہیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل فرماتا ہے، ان کی مصیبت دور کرتا ہے، اور انہیں خوشحالی اور نعمت عطا کرتا ہے، تو اچانک ان میں سے ایک گروہ پھر سے شرک کرنے لگتا ہے—یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتا ہے، اور اس کی نعمتوں کو بھول کر اپنے پرانے عقائد کی طرف لوٹ جاتا ہے۔

یہ انسانی فطرت کا ایک المناک پہلو ہے کہ مصیبت میں تو انسان اللہ کو یاد کرتا ہے، لیکن خوشحالی میں اسے بھول جاتا ہے۔ یہ حالت صرف مشرکین کی نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو اللہ کی نعمتوں کو اپنی محنت یا کسی اور کا کرشمہ سمجھ بیٹھتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک سبق دیتا ہے کہ ہم صرف مصیبت میں ہی اللہ کو یاد نہ کریں، بلکہ خوشحالی اور راحت میں بھی اسی کے شکرگزار رہیں۔ نعمت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا اور اس کی عبادت میں ثابت قدم رہنا ہی حقیقی ایمان کی نشانی ہے۔ یاد رکھیں، اللہ ہی ہے جو تکلیف کو دور کرتا ہے اور رحمت عطا کرتا ہے، اس لیے ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔



📜 آیت 31-35 — سورہ روم

31۞ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(مومنو) اُسی (خدا) کی طرف رجوع کئے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا
32مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
(اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے
33وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے
34لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں سو (خیر) فائدے اُٹھالو عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا
35أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا بِهِ يُشْرِكُونَ
کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ اُن کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے
رومقرآن فہرست
60آیت
مکیRevelation
33آیت

ترجمہ — روم 33

سورہ روم آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار…

سورہ آیت 33/60 — سورہ روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ روم سنیں, سورہ روم ترجمہ, سورہ روم mp3, سورہ روم pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Monday, September 7, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں