Wa izaa massan naasa durrun da`aw Rabbahum muneebeena ilaihi summa izaaa azaqahum minhu rahmatan izaa fareequm minhum be Rabbihim yushrikoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون بر آدميان زيانى رسد، پروردگارشان را بخوانند و به درگاه او توبه كنند؛ و چون رحمت خويش به آنها بچشاند، گروهى را بينى كه به پروردگارشان شرك مىآورند.
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ضُرّ: تکلیف، مصیبت، بیماری، فقر یا قحط۔
مُّنِیبِینَ: رجوع کرنے والے، توبہ کرنے والے، یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہونے والے۔
أَذَاقَهُم: چکھایا، دے دیا۔
رَحْمَةً: نعمت، رحمت، کشائش اور خوشحالی۔
تفسیر:
جب انسانوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے—خواہ وہ بیماری ہو، فقر ہو، قحط ہو یا کوئی اور مصیبت—تو وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور اس سے مدد مانگتے ہیں۔ اس وقت وہ اپنے دل کی گہرائی سے صرف اللہ کو یاد کرتے ہیں، اس کے سامنے عاجزی اور نیازمندی سے جھک جاتے ہیں، اور اپنی ساری امیدیں اسی پر لگا دیتے ہیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل فرماتا ہے، ان کی مصیبت دور کرتا ہے، اور انہیں خوشحالی اور نعمت عطا کرتا ہے، تو اچانک ان میں سے ایک گروہ پھر سے شرک کرنے لگتا ہے—یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتا ہے، اور اس کی نعمتوں کو بھول کر اپنے پرانے عقائد کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
یہ انسانی فطرت کا ایک المناک پہلو ہے کہ مصیبت میں تو انسان اللہ کو یاد کرتا ہے، لیکن خوشحالی میں اسے بھول جاتا ہے۔ یہ حالت صرف مشرکین کی نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو اللہ کی نعمتوں کو اپنی محنت یا کسی اور کا کرشمہ سمجھ بیٹھتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک سبق دیتا ہے کہ ہم صرف مصیبت میں ہی اللہ کو یاد نہ کریں، بلکہ خوشحالی اور راحت میں بھی اسی کے شکرگزار رہیں۔ نعمت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا اور اس کی عبادت میں ثابت قدم رہنا ہی حقیقی ایمان کی نشانی ہے۔ یاد رکھیں، اللہ ہی ہے جو تکلیف کو دور کرتا ہے اور رحمت عطا کرتا ہے، اس لیے ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔