روم · 32/60
ترجمہ تلفظ — روم
مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ۝٣٢
Minal lazeena farraqoo deenahum wa kaanoo shiya`an kullu hizbim bimaa ladaihim farihoon
📖 اردو ترجمہ
(اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَرَّقُوا دِينَهُمْ: اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، یعنی کچھ مانا اور کچھ چھوڑ دیا۔
  • شِيَعًا: فرقے اور گروہ، جو اپنے اپنے رہنماؤں اور خیالات کے پیچھے چل پڑے۔
  • حِزْب: گروہ یا جماعت۔
  • فَرِحُونَ: خوش اور مسرور، اپنے موقف پر مطمئن۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں مومنین کو واضح حکم دیتا ہے کہ وہ مشرکین اور اہلِ بدعت کے راستے سے بچیں، کیونکہ انہوں نے دینِ الٰہی کو بدل ڈالا اور اسے ٹکڑوں میں تقسیم کر لیا۔ یعنی انہوں نے کچھ احکام مانے اور کچھ کو چھوڑ دیا، اپنی خواہشات اور مفادات کے مطابق دین کو ڈھال لیا۔ یہ لوگ مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے، ہر گروہ اپنے رہنماؤں کی اندھی تقلید کرتا ہے، ایک دوسرے کی مخالفت پر تُلے ہوئے ہیں، اور ہر ایک اپنے باطل موقف پر اس قدر مطمئن اور خوش ہے کہ اسے یقین ہے کہ صرف وہی حق پر ہے اور باقی سب گمراہ ہیں۔

یہ وہی روش ہے جو پہلے یہود و نصاریٰ نے اختیار کی تھی، انہوں نے اپنی کتابوں میں سے جو پسند آیا اسے مان لیا اور جو پسند نہ آیا اسے رد کر دیا، چنانچہ وہ آپس میں متفرق ہو گئے اور ہر فرقہ اپنے نظریات پر فخر کرنے لگا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دینِ اسلام ایک کامل اور مکمل ضابطۂ حیات ہے، اسے جزوی طور پر نہیں اپنانا چاہیے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کو پوری طرح اپنائے، نہ کہ اپنی عقل اور خواہشات کو دین پر مقدم کرے۔ آج بھی بہت سے لوگ فرقہ واریت اور تعصب کا شکار ہیں، ہر گروہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور دوسروں کو گمراہ کہتا ہے۔ یہ وہی بیماری ہے جس کی طرف اللہ نے اشارہ کیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اتحاد اور وحدت کو اپنائیں، اختلافات کو ختم کریں، اور دین کو مکمل طور پر سمجھ کر اس پر عمل کریں، تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور مغفرت کے مستحق بن سکیں۔ یاد رکھیں، جو لوگ دین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہیں اور اپنے گروہ پر فخر کرتے ہیں، وہ اللہ کے غضب کا شکار ہوتے ہیں، لیکن جو لوگ پورے دین کو اپناتے ہیں اور اتحاد پر قائم رہتے ہیں، ان کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 30-34 — روم

30فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
تو تم ایک طرف کے ہوکر دین (خدا کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
31۞ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(مومنو) اُسی (خدا) کی طرف رجوع کئے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا
32مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
(اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے
33وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے
34لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں سو (خیر) فائدے اُٹھالو عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا
رومقرآن فہرست
60آیت
مکیRevelation
32آیت

ترجمہ — روم 32

سورہ روم آیت 32 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین…

سورہ آیت 32/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 30–34. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں