روم · 7/60
ترجمہ تلفظ — روم
يَعۡلَمُونَ ظَٰهِرًا مِّنَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ عَنِ ٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ غَٰفِلُونَ  ۝٧
Ya`lamoona zaahiram minal hayaatid dunya wa hum `anil Aakhirati hum ghaafiloon
📖 اردو ترجمہ
یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں۔ اور آخرت (کی طرف) سے غافل ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ظاہراً: ظاہری پہلو، سطحی علم
  • الحیاۃ الدنیا: دنیاوی زندگی، دنیا کا معاشی اور مادی پہلو
  • غافلون: بے خبر، لاپرواہ، غفلت میں ڈوبے ہوئے

تفسیر:

یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بارے میں ارشاد فرماتی ہے جو صرف دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل بے خبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہری پہلوؤں سے واقف ہیں — جیسے کھانا پینا، کمانا، تجارت، عمارتیں بنانا، اور مادی ترقی کے ذرائع — لیکن انہیں اس بات کا علم نہیں کہ یہ سب کچھ عارضی ہے اور اصل زندگی تو آخرت کی ہے۔

یہ لوگ دنیا کی چمک دمک اور زرق برق سے دھوکہ کھا جاتے ہیں، بس ظاہری علم رکھتے ہیں جو ان کی دنیاوی معیشت اور مادی ضروریات سے متعلق ہے۔ وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ موت کے بعد ایک اور زندگی ہے، جہاں ہر عمل کا حساب ہوگا۔ وہ آخرت کے بارے میں اس قدر غافل ہیں کہ نہ اس پر یقین رکھتے ہیں، نہ اس کی فکر کرتے ہیں، اور نہ ہی اس کی تیاری کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کی اس کمزوری کی نشاندہی کی ہے کہ وہ صرف ظاہری چیزوں سے متاثر ہوتا ہے اور باطنی حقیقتوں سے چشم پوشی کرتا ہے۔ یہ غفلت ہی انسان کو اللہ کی اطاعت سے دور کرتی ہے اور اسے صرف دنیا کی خاطر جینے پر مجبور کرتی ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیے، کیا یہ دنیا واقعی اتنی قیمتی ہے کہ ہم اس کی خاطر اپنی ابدی زندگی کو برباد کر لیں؟ ہماری عمر تو چند دنوں کی ہے، لیکن آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ جس طرح ایک عقلمند مسافر راستے میں آرام کرنے کے لیے رکتا ہے لیکن اپنی منزل کو نہیں بھولتا، اسی طرح ہمیں بھی دنیا میں رہتے ہوئے اپنی اصل منزل یعنی آخرت کو یاد رکھنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم ظاہری دنیا سے آگے بڑھ کر حقیقت کو دیکھیں۔ جو شخص صرف دنیا کی ظاہری چمک پر یقین رکھتا ہے، وہ اس مسافر کی مانند ہے جو صرف راستے کے پھولوں کو دیکھتا رہے اور اپنی منزل ہی بھول جائے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائیں، کیونکہ یہی کامیابی ہے — دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں غفلت سے بچائے اور آخرت کی فکر عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 5-9 — روم

5بِنَصۡرِ ٱللَّهِۚ يَنصُرُ مَن يَشَآءُۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ 
(یعنی) خدا کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے
6وَعۡدَ ٱللَّهِۖ لَا يُخۡلِفُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ 
(یہ) خدا کا وعدہ (ہے) خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
7يَعۡلَمُونَ ظَٰهِرًا مِّنَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ عَنِ ٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ غَٰفِلُونَ 
یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں۔ اور آخرت (کی طرف) سے غافل ہیں
8أَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۗ مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّىۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآيِٕ رَبِّهِمۡ لَكَٰفِرُونَ 
کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں
9أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً وَأَثَارُواْ ٱلۡأَرۡضَ وَعَمَرُوهَآ أَكۡثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ 
کیا اُن لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی (سیر کرتے) تو دیکھ لیتے کہ جو لوگ اُن سے پہلے تھے ان کا انجام کیسے ہوا۔ وہ اُن سے زورو قوت میں کہیں زیادہ تھے اور اُنہوں نے زمین کو جوتا اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو اُنہوں نے آباد کیا۔ اور اُن کے پاس اُن کے پیغمبر نشانیاں لےکر آتے رہے تو خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا۔ بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
رومقرآن فہرست
60آیت
مکیRevelation
7آیت

ترجمہ — روم 7

سورہ آیت 7/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 5–9. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں