کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
سَابِغَاتٍ: کامل اور کشادہ زرہیں (دروں) جو پورے بدن کو ڈھانپ لیں۔
السَّرْدِ: زرہ بنانے کا عمل، یعنی حلقوں کو جوڑنا اور ان میں کڑیاں ڈالنا۔
قَدِّرْ: اندازہ رکھو، یعنی کڑیوں اور حلقوں کو مناسب پیمانے پر بناؤ۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت داؤد علیہ السلام کو ایک عظیم صنعتی اور فوجی مہارت عطا فرما رہے ہیں۔ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ مکمل اور کشادہ زرہیں بنائیں جو پوری طرح جسم کی حفاظت کریں، اور ان کے حلقوں میں کڑیوں (مسامیر) کو بالکل مناسب اندازہ سے لگائیں۔ نہ حلقے اتنے چھوٹے ہوں کہ کمزور پڑ جائیں اور دشمن کے وار کو نہ روک سکیں، نہ اتنے بڑے ہوں کہ پہننے والے پر بوجھ بن جائیں۔ یہ ایک بہترین فنی تعلیم ہے کہ ہر کام میں میانہ روی اور درست پیمانہ ضروری ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت داؤد علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اور تم سب نیک عمل کرو۔" یعنی صرف دنیاوی مہارت اور پیشہ ورانہ کمال ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ تقویٰ اور نیکی بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "بے شک میں تمہارے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہوں۔" یہ ایک بیدار کرنے والا پیغام ہے کہ اللہ کی نظر ہر عمل پر ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ظاہر ہو یا پوشیدہ۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام صرف عبادت کا نام نہیں، بلکہ دنیاوی کاموں میں بھی مہارت، محنت اور دیانت داری کو عبادت بنایا جا سکتا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے زرہ بنانے جیسے پیشے کو اللہ کی اطاعت کا ذریعہ بنایا، اور اللہ نے انہیں دنیا و آخرت دونوں میں بلندی عطا فرمائی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے پیشے اور کام کو اللہ کی رضا کے لیے کریں، اس میں کمال حاصل کریں، اور ساتھ ہی اپنے اعمال کو اللہ کی نگرانی کا احساس رکھتے ہوئے نیک بنائیں۔ یاد رکھیں، اللہ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور ہر نیکی کا بدلہ دینے والا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں کامیابی اور آخرت میں جنت کی طرف لے جاتا ہے۔
کیا انہوں نے اس کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔ اس میں ہر بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے
اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی۔ اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جِنّوں میں سے ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے۔ اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم کی) آگ کا مزہ چکھائیں گے
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔