سبا · 12/54
ترجمہ تلفظ — سبا
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ ۖ وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ ۝١٢
Wa li-Sulaimaanar reeha ghuduwwuhaa shahrunw wa ra-waahuhaa shahrunw wa asalnaa lahoo `ainal qitr; wa minal jinni mai ya`malu baina yadaihi bi izni Rabbih; wa mai yazigh minhum `an amrinaa nuziqhu min `azaabis sa`eer
📖 اردو ترجمہ
اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی۔ اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جِنّوں میں سے ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے۔ اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم کی) آگ کا مزہ چکھائیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • غُدُوُّهَا: صبح کے وقت چلنا (ایک مہینے کی مسافت)
  • رَوَاحُهَا: شام کے وقت چلنا (ایک مہینے کی مسافت)
  • عَيْنَ الْقِطْرِ: تانبے کا چشمہ (پگھلا ہوا تانبا)
  • يَزِغْ: منحرف ہو، بھٹک جائے
  • السَّعِيرِ: بھڑکتی ہوئی آگ

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کو بے شمار عظیم نعمتیں عطا فرمائیں، جن میں سے ایک نمایاں نعمت ہوا کا ان کے تابع فرمان ہونا تھا۔ ہوا صبح کے وقت اتنی تیز رفتار سے چلتی تھی کہ ایک مہینے کی مسافت طے کر لیتی تھی، اور شام کے وقت بھی اتنی ہی تیز رفتاری سے چلتی تھی۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا جو اللہ نے صرف اپنے برگزیدہ نبی کو عطا کیا، تاکہ وہ بڑی سے بڑی دوری کو بآسانی طے کر سکیں اور لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکیں۔

اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے تانبے کا چشمہ جاری کیا، یعنی تانبے کو پگھلا کر بہتا ہوا پانی بنا دیا، جس سے وہ جو چاہتے تھے تیار کرتے تھے۔ یہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم شاہکار تھا کہ سخت دھات پانی کی طرح بہنے لگی۔

اللہ تعالیٰ نے جنات میں سے بھی بہت سے افراد کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں لگا دیا، جو ان کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے۔ یہ سب کچھ اللہ کے اذن اور حکم سے تھا، کیونکہ اللہ ہی سب کا مالک ہے اور جسے چاہتا ہے یہ قدرت عطا کرتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ایک سخت تنبیہ بھی فرمائی کہ اگر ان جنات میں سے کوئی اللہ کے حکم سے منحرف ہو کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی اطاعت سے بھٹک جائے گا، تو اسے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب چکھایا جائے گا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اللہ کی اطاعت اور اس کے نبیوں کی پیروی ہی کامیابی کا راستہ ہے، اور نافرمانی کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دنیا میں بھی عزت اور قدرت عطا فرماتا ہے، لیکن اصل کامیابی آخرت میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے حکموں کی پیروی کریں اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کو اپنائیں، تاکہ ہم بھی اللہ کی رحمتوں کے مستحق بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے، وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں اللہ کی اطاعت کو اولین ترجیح بنانا چاہیے، کیونکہ یہی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 10-14 — سبا

10۞ وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ
اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی۔ اے پہاڑو ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (ان کا مسخر کردیا) اور ان کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا
11أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ ۖ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں
12وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ ۖ وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ
اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی۔ اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جِنّوں میں سے ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے۔ اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم کی) آگ کا مزہ چکھائیں گے
13يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ ۚ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
14فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے
سباقرآن فہرست
54آیت
مکیRevelation
12آیت

ترجمہ — سبا 12

سورہ سبا آیت 12 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا…

سورہ آیت 12/54 — سبا سبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سبا سنیں, سبا ترجمہ, سبا mp3, سبا pdf. آیت 10–14. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں