سبا · 18/54
ترجمہ تلفظ — سبا
وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ ۖ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ ۝١٨
Wa ja`alnaa bainahum wa bainal qural latee baaraknaa feehaa quran zaahiratanw wa qaddamaa feehas sayr; seeroo feehaa la yaalirya wa aiyaaman aamineen
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے ان کے اور (شام کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد ورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بےخوف وخطر چلتے رہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • قُرًى ظَاهِرَةً: ایسی آبادیاں جو ایک دوسرے سے قریب ہوں اور ایک سے دوسری نظر آئے۔
  • قَدَّرْنَا: ہم نے اندازہ مقرر کیا، یعنی منزلوں کے درمیان فاصلہ طے کیا۔
  • السَّيْرَ: چلنے کا سفر۔
  • آمِنِينَ: خوف، بھوک اور پیاس سے محفوظ۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قومِ سبا پر اپنے عظیم انعامات کا ذکر فرمایا ہے۔ اہلِ سبا یمن میں رہتے تھے، اور اللہ نے ان کے علاقے اور شام کی برکتوں والی سرزمین کے درمیان ایسی آبادیاں رکھی تھیں جو آپس میں ایک دوسرے سے بالکل قریب تھیں۔ یہ قریں اس قدر منظم اور متصل تھیں کہ ایک گاؤں سے دوسرا گاؤں صاف نظر آتا تھا۔ اللہ نے ان کے سفر کے لیے منزلیں مقرر کر دی تھیں، یعنی صبح ایک جگہ سے چلیں تو دوپہر تک دوسری بستی میں پہنچ جاتے، اور اسی طرح رات تک تیسری بستی میں۔ یہ سلسلہ یمن سے شام تک جاری تھا۔

اللہ نے ان سے فرمایا: تم ان آبادیوں میں راتوں اور دنوں میں جب چاہو سفر کرو، تمہیں نہ کسی دشمن کا خوف ہے، نہ بھوک کا اندیشہ، نہ پیاس کی فکر۔ یہ امن اور سہولت اللہ کی طرف سے ایک خاص رحمت تھی، جو ان کی شکرگزاری کا تقاضا کرتی تھی۔

یہ نعمت اس بات کی علامت ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتی ہے، تو اللہ اسے مزید عطا کرتا ہے اور اس کے معاشرے میں سکون اور خوشحالی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کہ قومِ سبا نے اس نعمت کو ناشکری میں بدل دیا، جس کا ذکر آگے کی آیات میں آئے گا۔

یہاں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نعمتیں ہمارے امتحان کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اسے اللہ کی اطاعت میں استعمال کریں۔ امن، سکون اور آسانیاں اللہ کی بڑی رحمتیں ہیں، اور ان کی قدر کرنا اور ان پر شکرگزاری کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ ہمیں شکر گزار بندے بنائے اور ہماری نعمتوں کو ہم سے نہ چھینے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 16-20 — سبا

16فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُم بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِّن سِدْرٍ قَلِيلٍ
تو انہوں نے (شکرگزاری سے) منہ پھیر لیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انہیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں
17ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِمَا كَفَرُوا ۖ وَهَلْ نُجَازِي إِلَّا الْكَفُورَ
یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی۔ اور ہم سزا ناشکرے ہی کو دیا کرتے ہیں
18وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ ۖ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ
اور ہم نے ان کے اور (شام کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد ورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بےخوف وخطر چلتے رہو
19فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں میں بُعد (اور طول پیدا) کردے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کرکے) ان کے افسانے بنادیئے اور انہیں بالکل منتشر کردیا۔ اس میں ہر صابر وشاکر کے لئے نشانیاں ہیں
20وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ
اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے
سباقرآن فہرست
54آیت
مکیRevelation
18آیت

ترجمہ — سبا 18

سورہ سبا آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے ان کے اور (شام کی) ان بستیوں…

سورہ آیت 18/54 — سبا سبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سبا سنیں, سبا ترجمہ, سبا mp3, سبا pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں