سبا · 34/54
ترجمہ تلفظ — سبا
وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ ۝٣٤
Wa maaa arsalnaa` fee qaryatim min nazeerin illaa qaala mutrafooaa innaa bimaaa ursiltum bihee kaafiroon
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ جو چیز تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے قائل نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مُتْرَفُوها: اس کے مالدار، آسودہ حال اور عیش پرست لوگ۔
  • نَذِير: ڈرانے والا، رسول یا نبی۔
  • كَافِرُونَ: انکار کرنے والے، جھٹلانے والے۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ اے محمد! ہم نے جب بھی کسی بستی میں کوئی نبی یا رسول بھیجا جو لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں توحید اور اللہ کی عبادت کی دعوت دے، تو اس بستی کے وہ لوگ جنہیں ہم نے مال و دولت، آسائش اور عیش و عشرت سے نوازا تھا، وہی سب سے پہلے اس رسول کے سامنے کھڑے ہوئے اور کہا: "ہم اس پیغام کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جو تم لے کر آئے ہو۔"

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ کی قوم کے مالدار اور بااثر لوگ آپ کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں، بلکہ یہ تو تمام پچھلی امتوں کا طریقہ رہا ہے۔ ہر دور میں جب بھی انبیاء آئے، ان کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ وہی لوگ بنے جو دنیا کی نعمتوں میں ڈوبے ہوئے تھے، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ ایمان لانے سے ان کی بڑائی، ان کا جاہ و منصب اور ان کی خوش حالی ختم ہو جائے گی۔ وہ اپنی شہوات اور لذتوں کو دین پر مقدم رکھتے تھے، اس لیے حق کو قبول کرنے کے بجائے اس کا انکار کرنا ان کے لیے آسان تھا۔

یہ آیت مومنوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ دنیا کی نعمتیں کسی کے لیے باعثِ فخر نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ یہ آزمائش ہوتی ہیں۔ جو شخص جتنا زیادہ مالدار اور آسودہ حال ہو، اسے اتنا ہی زیادہ اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے اور حق کو قبول کرنے میں تکبر نہیں کرنا چاہیے۔ یاد رکھیں! اللہ کے نزدیک عزت تقویٰ میں ہے، نہ کہ مال و دولت میں۔

پیارے بھائیو اور بہنو! جب ہماری دعوتِ حق کے سامنے بھی کوئی مالدار یا بااثر شخص کھڑا ہو کر انکار کرے تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ اللہ کا قائم کردہ نظام ہے کہ ہر نبی کے ساتھ ایسا ہوا۔ ہمیں صبر اور استقامت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا ہے، کیونکہ فتح آخر کار حق کا ہی مقدر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق دے اور تکبر سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 32-36 — سبا

32قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم ۖ بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ
بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے
33وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا ۚ وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ بس جو عمل وہ کرتے تھے ان ہی کا ان کو بدلہ ملے گا
34وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ
اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ جو چیز تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے قائل نہیں
35وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا
36قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
سباقرآن فہرست
54آیت
مکیRevelation
34آیت

ترجمہ — سبا 34

سورہ سبا آیت 34 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں…

سورہ آیت 34/54 — سبا سبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سبا سنیں, سبا ترجمہ, سبا mp3, سبا pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں