سبا · 43/54
ترجمہ تلفظ — سبا
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَقَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا إِفْكٌ مُّفْتَرًى ۚ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ ۝٤٣
Wa izaa tutlaa `alaihim Aayaatunaa baiyinaatin qaaloo maa haazaa illaa rajuluny yureedu ai-yasuddakum `ammaa kaana ya`budu aabaaa`ukum wa qaaloo maa haazaaa illaaa ifkum muftaraa; wa qaalal lazeena kafaroo lilhaqqi lammaa jaaa`ahum in haazaaa illaa sihrum mubeen
📖 اردو ترجمہ
اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے (جو اپنی طرف سے) بنا لیا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تُتْلَىٰ: پڑھی جائے
  • بَیِّنَاتٍ: واضح اور روشن دلیلیں
  • یَصُدَّکُمْ: روک دے تمہیں
  • إِفْکٌ مُّفْتَرًی: جھوٹ جو خود گھڑ لیا گیا ہو
  • سِحْرٌ مُّبِینٌ: کھلا جادو

تفسیر:

جب کفارِ مکہ کے سامنے ہماری واضح اور روشن آیات پڑھی جاتی ہیں، جن میں توحید، رسالت اور آخرت کے دلائل موجود ہوتے ہیں، تو وہ حق کو قبول کرنے کے بجائے طرح طرح کے بہانے تراشتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک عام آدمی ہیں جو چاہتے ہیں کہ تمہیں ان معبودوں کی عبادت سے روک دیں جن کی تمہارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے۔ یہ کہہ کر وہ اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو حق پر مقدم کرتے ہیں، حالانکہ عقل سلیم یہی کہتی ہے کہ حق کی کسوٹی آباء و اجداد کی روش نہیں، بلکہ اللہ کی وحی ہے۔

پھر وہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے قرآن کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ محض جھوٹ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود گھڑ لیا ہے اور اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ حالانکہ قرآن کا اندازِ بیان، اس کی بلاغت، اس کے علوم اور اس کی پیش کردہ تعلیمات اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہو سکتا۔

اور جب حق ان کے پاس آیا یعنی قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، تو کافروں نے اسے جادو قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صریح جادو ہے جو لوگوں کو ان کے خاندانوں، بیوی بچوں اور رشتہ داروں سے جدا کر دیتا ہے۔ یہ ان کی ہٹ دھرمی اور عناد کی انتہا تھی کہ روشن ترین حقائق کو بھی جادو اور فریب کا نام دے دیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کے راستے میں رکاوٹیں ہمیشہ سے رہی ہیں، لیکن حق اپنی چمک دمک سے ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ کفار کے یہ الزامات دراصل ان کی بے بسی اور عاجزی کا اظہار تھے، کیونکہ جب دلائل قوی ہوں تو مخالف کے پاس بہتان اور جھوٹ کے سوا کوئی حربہ نہیں بچتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، اس پر غور کریں اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ قرآن وہ کتاب ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں لے آتی ہے، اور جو شخص اسے مضبوطی سے تھام لے وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ آج بھی جو لوگ قرآن کو جادو یا قصہ گوئی کہتے ہیں، وہ دراصل اسی پرانی روش کے پیرو ہیں، لیکن حق کا چراغ کبھی بجھ نہیں سکتا، اور اللہ کا دین ہمیشہ سربلند رہے گا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 41-45 — سبا

41قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ۖ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ
وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے۔ نہ یہ۔ بلکہ یہ جِنّات کو پوجا کرتے تھے۔ اور اکثر انہی کو مانتے تھے
42فَالْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَلَا ضَرًّا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو
43وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَقَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا إِفْكٌ مُّفْتَرًى ۚ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ
اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے (جو اپنی طرف سے) بنا لیا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
44وَمَا آتَيْنَاهُم مِّن كُتُبٍ يَدْرُسُونَهَا ۖ وَمَا أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِن نَّذِيرٍ
اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی
45وَكَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ مَا آتَيْنَاهُمْ فَكَذَّبُوا رُسُلِي ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ
اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میرا عذاب کیسا ہوا
سباقرآن فہرست
54آیت
مکیRevelation
43آیت

ترجمہ — سبا 43

سورہ سبا آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی…

سورہ آیت 43/54 — سبا سبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سبا سنیں, سبا ترجمہ, سبا mp3, سبا pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں