ظَلَمُوا: جنہوں نے شرک اور گناہوں سے اپنے اوپر ظلم کیا۔
تُكَذِّبُونَ: جھٹلاتے تھے۔
تفسیر:
قیامت کے دن جب سب لوگ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے، تو وہ تمام تعلقات جو دنیا میں تھے، بالکل ختم ہو جائیں گے۔ جن لوگوں کو دنیا میں اللہ کے سوا معبود بنایا جاتا تھا، وہ اپنے عبادت کرنے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے، اور نہ ہی انہیں کسی نقصان سے بچا سکیں گے۔ نہ وہ ان کی سفارش کر سکیں گے، نہ انہیں عذاب سے بچا سکیں گے۔ اس دن تمام اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوگا، اور ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا۔
پھر اللہ تعالیٰ ان ظالموں سے کہے گا جنہوں نے دنیا میں شرک کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا: "اب اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم دنیا میں جھٹلاتے تھے۔" یہ وہی عذاب ہے جس کی حقیقت کو وہ دنیا میں ماننے سے انکار کرتے تھے، اور اب وہ اس کا حقیقی مزہ چکھیں گے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غفلت سے بیدار کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کسی کو اللہ کا شریک نہ بنائیں، نہ اپنے اعمال پر بھروسہ کریں، بلکہ صرف اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طالب رہیں۔ یہ یاد رکھیں کہ قیامت کا دن یقینی ہے، اور اس دن ہر شخص کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ اللہ نے اپنی رحمت سے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے راستہ دکھایا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیا میں نیک اعمال کریں، شرک سے بچیں، اور اللہ کی رحمت کے امیدوار رہیں۔ یہ آیت ہمیں آخرت کی یاد دلاتی ہے تاکہ ہم اس دنیا میں ایسے کام کریں جو ہمیں جنت کی طرف لے جائیں، نہ کہ جہنم کی طرف۔ اللہ ہمیں ہدایت دے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو قیامت کے دن کامیاب ہوں گے۔ آمین۔
اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے (جو اپنی طرف سے) بنا لیا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔