مکانتکم: اپنی جگہ پر، اپنے طریقے پر، اپنی حالت پر۔
عامل: کام کرنے والا، عمل کرنے والا۔
تفسیر:
اے نبی! آپ اپنی قوم کے ان لوگوں سے فرما دیجیے جو حق کے مقابلے میں ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں: اے میری قوم! تم اپنے اس طریقے اور اپنی اس حالت پر عمل کرتے رہو جسے تم نے خود پسند کر رکھا ہے، یعنی شرک اور کفر کی راہ پر قائم رہو، اور جو کچھ تم کر سکتے ہو کر گزرو۔ میں بھی اپنے اس راستے پر عمل کرتا رہوں گا جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے، یعنی توحید کی دعوت اور اللہ کی عبادت کو خالص کرنے کا کام جاری رکھوں گا۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا انجام اچھا ہے اور کس کا برا۔ تم دیکھ لو گے کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے ذلیل و رسوا کر دے گا، اور کس پر وہ عذاب نازل ہوتا ہے جو ہمیشہ رہنے والا ہے اور کبھی ختم نہ ہو گا۔
یہ آیت مبارکہ مسلمانوں کے لیے بہت بڑی نصیحت اور سبق ہے کہ حق پر قائم رہنے والوں کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی زیادہ اور طاقتور کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب آپ دیکھیں کہ لوگ آپ کے ایمان اور عمل کا مذاق اڑا رہے ہیں، تو آپ صبر کریں اور اپنے کام پر ڈٹے رہیں، کیونکہ انجام کار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی فیصلہ کرے گا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ یہ وعدہ اللہ کا ہے کہ حق باطل پر غالب آ کر رہے گا، اور یہی اس آیت کا عظیم پیغام ہے۔
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہہ دیں کہ خدا نے۔ کہو کہ بھلا دیکھو تو جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو۔ اگر خدا مجھ کو کوئی تکلیف پہنچانی چاہے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں یا اگر مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو وہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ کہہ دو کہ مجھے خدا ہی کافی ہے۔ بھروسہ رکھنے والے اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں
ہم نے تم پر کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لئے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے۔ تو جو شخص ہدایت پاتا ہے تو اپنے (بھلے کے) لئے اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی سے تو اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور (اے پیغمبر) تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔