کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُخْزِیهِ: اسے ذلیل و رسوا کرے گا۔
یَحِلُّ عَلَیْهِ: اس پر نازل ہوگا۔
عَذَابٌ مُّقِیمٌ: دائمی اور ہمیشہ رہنے والا عذاب۔
تفسیر آیت:
اے نبی! آپ اپنی قوم سے فرما دیجیے کہ تم اپنی روش پر عمل کیے جاؤ، جسے تم نے خود پسند کیا ہے، اور میں اپنے راستے پر عمل پیرا ہوں۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔ یہ عذاب دنیا میں بھی آتا ہے، جیسے بدر کے دن مشرکین کو پہنچا، اور آخرت میں بھی ایسا دائمی عذاب اس پر نازل ہوگا جو کبھی ختم نہ ہوگا اور نہ ہی اس میں کوئی کمی آئے گی۔
یہ آیت کافروں کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے کہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہیں، لیکن انجام کار انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق کس کے ساتھ تھا۔ جب عذاب آئے گا تو پھر پچھتانا بیکار ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا ہی میں متنبہ کر دیا ہے تاکہ وہ اپنے انجام سے پہلے سنبھل جائیں اور اپنے خالق کی طرف رجوع کریں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے، قرآن دیا ہے، اور رسول بھیجے ہیں تاکہ ہم اندھیرے سے روشنی کی طرف آئیں۔ جو شخص حق کو قبول کر لیتا ہے، وہ دنیا میں عزت پاتا ہے اور آخرت میں کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔ لیکن جو ضد اور تکبر پر اڑا رہتا ہے، اس کا انجام ذلت اور دائمی عذاب ہے۔ آئیے! ہم اپنی زندگیوں کو دیکھیں، کیا ہم اپنے رب کے احکام پر عمل کر رہے ہیں؟ کیا ہم نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دوسرے فرائض کو اہمیت دے رہے ہیں؟ یاد رکھیے! دنیا کی یہ چند روزہ زندگی بہت مختصر ہے، لیکن آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اللہ ہمیں اپنی رحمت سے اس دائمی عذاب سے بچائے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہہ دیں کہ خدا نے۔ کہو کہ بھلا دیکھو تو جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو۔ اگر خدا مجھ کو کوئی تکلیف پہنچانی چاہے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں یا اگر مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو وہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ کہہ دو کہ مجھے خدا ہی کافی ہے۔ بھروسہ رکھنے والے اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں
ہم نے تم پر کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لئے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے۔ تو جو شخص ہدایت پاتا ہے تو اپنے (بھلے کے) لئے اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی سے تو اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور (اے پیغمبر) تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو
خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کرچکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔