اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ: سفر کیا، زمین میں چلے گئے۔
جُنَاحٌ: گناہ، حرج، تنگی۔
تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ: نماز کو کم کرنا، یعنی چار رکعت والی نماز کو دو رکعت کرنا۔
يَفْتِنَكُمُ: تمہیں نقصان پہنچائے، تم پر ظلم و زیادتی کرے، یا تمہیں قتل کرے۔
عَدُوًّا مُّبِينًا: کھلا اور واضح دشمن۔
تفسیر:
اے ایمان والو! جب تم اللہ کی زمین میں سفر کرو اور دورانِ سفر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تم پر حملہ آور ہوں گے اور نماز کی حالت میں تمہیں نقصان پہنچائیں گے، تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں تخفیف کرو، یعنی چار رکعت والی فرض نماز کو دو رکعت پڑھ لو۔ یہ اللہ کی طرف سے تمہارے لیے ایک آسانی اور رحمت ہے، تاکہ تم اپنے دین کی حفاظت بھی کرو اور اپنی جان و مال کو بھی خطرے سے بچا سکو۔
یاد رکھو کہ کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں، ان کی عداوت پوشیدہ نہیں بلکہ ظاہر اور واضح ہے۔ وہ ہمیشہ تمہیں نقصان پہنچانے اور تمہارے دین سے پھیرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، اس لیے ان سے ہوشیار رہو اور اپنے دین و دنیا کے معاملات میں ان سے مکمل احتیاط برتو۔
یہ رخصت صرف خوف کی حالت تک محدود نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ کی سنت سے ثابت ہے کہ سفر میں قصر نماز جائز ہے چاہے امن ہو یا خوف۔ لہٰذا جب بھی تم سفر کرو، تو اللہ کی اس آسان رخصت سے فائدہ اٹھاؤ اور نماز کو دو رکعت پڑھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر آسانی چاہتا ہے، تنگی نہیں۔
یہ حکم اللہ کی رحمت اور شفقت کا مظہر ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے دین کو آسان بنایا ہے۔ تم بھی اپنے رب کے اس احسان کا شکر ادا کرو اور اس کی اطاعت میں ہمیشہ سرگرم رہو۔ اللہ تمہارے دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا، جب تک تم اس پر بھروسہ رکھو گے اور اس کے احکام کی پابندی کرو گے۔
اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے
اور (اے پیغمبر) جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہو جائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا خدا نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے
پھر جب تم نماز تمام کرچکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بےشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔