ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُرَاغَمًا: وہ جگہ جہاں انسان دشمنوں کی ناک رگڑنے کے لیے پناہ لے سکے، یعنی محفوظ مقام اور کشادہ زمین۔
- سَعَةً: فراخی، کشادگی، یعنی رزق اور عیش کی وسعت۔
- یُدْرِکْهُ الْمَوْتُ: موت اسے پالے، یعنی سفر میں موت آجائے۔
- وَقَعَ أَجْرُهُ: اس کا اجر ثابت ہو گیا، لازم ہو گیا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو راہِ حق میں نکلنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو شخص اپنے وطنِ کفر کو چھوڑ کر اللہ کی راہ میں ہجرت کرتا ہے، اپنے دین کی حفاظت کے لیے، اللہ کی رضا کی طلب میں، اور رسول اللہ ﷺ کی مدد کے لیے نکلتا ہے، تو اسے زمین میں بہت سے محفوظ ٹھکانے اور کشادہ روزی ملے گی۔ وہ ایسی جگہ پہنچے گا جہاں اسے عزت ملے گی، اس کے دشمنوں کی ناک خاک ہوگی، اور اسے رزق کی فراخی نصیب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنے بندوں کے لیے وسیع کیا ہے، اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرکے نکلتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک بہت بڑی خوشخبری سناتا ہے: جو شخص اپنے گھر سے نکلے، ہجرت کی نیت سے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف، لیکن راستے میں ہی اسے موت آجائے، اور وہ اپنی منزلِ مقصود تک نہ پہنچ سکے، تو اس کا اجر ضائع نہیں ہوگا، بلکہ اللہ کے ذمے اس کا پورا اجر ثابت ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے مکمل اجر عطا فرمائے گا، گویا وہ اپنی منزل تک پہنچ گیا ہو۔ یہ اللہ کا عظیم فضل ہے کہ وہ نیت اور ارادے کی قدر کرتا ہے، اور جو شخص سچے دل سے اللہ کی راہ میں نکلے، چاہے موت اسے راستے میں ہی آجائے، اس کا درجہ ہجرت کرنے والوں جیسا ہی ہوگا۔
اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے، وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے، ان کی کمزوریوں سے درگزر کرتا ہے، اور ان پر رحم فرماتا ہے۔ یہ آیت ان لوگوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے جو اللہ کی راہ میں نکلنا چاہتے ہیں لیکن راستے میں کوئی رکاوٹ آجائے، یا موت آجائے، تو انہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ کے ہاں ان کا اجر محفوظ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی راہ میں قدم اٹھانا کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ چاہے دنیا میں ہمیں مشکلات کا سامنا ہو، چاہے راستے میں رکاوٹیں آئیں، اللہ تعالیٰ ہر حال میں ہمارے ساتھ ہے۔ ہمیں اپنے دین کی خاطر قربانی دینے سے کبھی نہیں ہچکچانا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو وسیع کیا ہے، اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرکے نکلتا ہے، اللہ اسے کبھی ذلیل نہیں کرتا۔ اور اگر ہم نیت میں سچے ہیں تو اللہ ہمارے عمل کو مکمل اجر عطا فرمائے گا، چاہے ہم اپنی منزل تک پہنچیں یا نہ پہنچیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایسا دین عطا کیا جو ہمیں عزت اور سربلندی کی راہ دکھاتا ہے، اور ہمیں اپنے رب کی رحمت کی امید دلاتا ہے۔ آئیے ہم اللہ کی راہ میں نکلنے کی ہمت کریں، اور اس پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ بہترین حامی اور ناصر ہے۔
📜 آیت 98-102 — نساء
ترجمہ — نساء 100
سورہ نساء آیت 100 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ…سورہ آیت 100/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 98–102. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








