ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سُكَارَىٰ: نشہ کی حالت میں، مدہوش
- جُنُبًا: جنابت کی حالت میں (غسل کے بغیر)
- عَابِرِي سَبِيلٍ: راستے سے گزرنے والے
- الْغَائِطِ: قضائے حاجت (پیشاب یا پاخانہ)
- لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ: عورتوں سے مباشرت (جماع)
- صَعِيدًا طَيِّبًا: پاک مٹی یا پاک زمین
- تَيَمَّمُوا: ارادہ کرو، قصد کرو
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک اہم حکم دیتا ہے کہ نماز کے قریب نہ جاؤ اس حالت میں کہ تم نشے میں مدہوش ہو، یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ یہ حکم اس وقت تھا جب شراب ابھی مکمل طور پر حرام نہیں ہوئی تھی، لیکن اس سے پہلے ہی اللہ نے نشہ کی حالت میں نماز سے منع فرما دیا تاکہ مسلمان نماز کی عظمت اور خشوع کو سمجھیں۔ نشہ عقل کو زائل کر دیتا ہے، اور نماز ایسی عبادت ہے جس کے لیے شعور اور سمجھ بوجھ ضروری ہے۔
اور نہ ہی جنابت کی حالت میں نماز کے قریب جاؤ، یعنی مسجد میں داخل نہ ہو، مگر یہ کہ تم راستے سے گزرنے والے ہو (یعنی مسجد سے محض گزرنا مقصود ہو، ٹھہرنا نہ ہو)، یہاں تک کہ غسل کرو۔ جنابت کی حالت میں انسان ناپاک ہوتا ہے، اس لیے اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ پاک ہو کر ہی عبادت کے مقام پر آئیں۔
اور اگر تم بیمار ہو (کہ پانی استعمال کرنا مضر ہو)، یا سفر پر ہو، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے، یا تم نے عورتوں سے جماع کیا ہو، اور تمہیں پانی نہ ملے تو پھر پاک مٹی سے تیمم کرو، یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مٹی کا مسح کرو۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے مشکل حالات میں آسان طریقہ عطا کیا۔
اللہ تعالیٰ تمہارے حالات کو جانتا ہے، وہ تم پر مہربان ہے، تمہاری کمزوریوں کو معاف کرنے والا اور تمہارے گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم پر آسانی ہو، سختی نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ رب العزت کی رحمت اور شفقت کا بہترین اظہار ہے۔ وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی کمزوریوں کو جانتا ہے۔ جب انسان کو پانی نہ ملے تو وہ تیمم کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے، جب کوئی بیماری ہو تو رخصت دیتا ہے، جب سفر میں ہو تو آسانی پیدا کرتا ہے۔ یہ دین آسان ہے، اس میں کوئی سختی نہیں۔ اللہ ہمیشہ اپنے بندوں کے لیے آسانیاں چاہتا ہے۔
یاد رکھیں! نماز مومن کی معراج ہے، یہ وہ عبادت ہے جو انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے، گناہوں سے روکتی ہے، اور دل کو سکون دیتی ہے۔ اس لیے اللہ نے اس کی حفاظت کے لیے یہ احکام دیے کہ انسان پاک صاف ہو کر، شعور کی مکمل حالت میں، خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا ہو۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں تیمم کی صورت میں ایک عظیم نعمت عطا کی ہے جو پانی نہ ملنے کی صورت میں ہمارے لیے طہارت کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کبھی انسان پر بوجھ نہیں ڈالتا، بلکہ ہر حال میں آسانی فراہم کرتا ہے۔
آئیے ہم اس حکم پر عمل کریں، نماز کی پابندی کریں، طہارت کا خیال رکھیں، اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طلب گار بنیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 41-45 — نساء
ترجمہ — نساء 43
سورہ نساء آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب…سورہ آیت 43/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








