اس روز کافر اور پیغمبر کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش ان کو زمین میں مدفون کرکے مٹی برابر کردی جاتی اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
یومِ قیامت، جب کافر اور رسولِ خدا ﷺ کی نافرمانی کرنے والے اپنے انجام کو دیکھیں گے، تو وہ شدتِ حسرت اور ندامت سے یہ تمنا کریں گے کہ کاش! وہ مٹی میں مل جائیں اور زمین ان پر برابر ہو جائے، یعنی وہ دفن ہو کر خاک بن جائیں تاکہ وہ اس عظیم دن کی رسوائی اور عذاب سے بچ جائیں۔ لیکن یہ تمنا اُس وقت ان کے کسی کام نہ آئے گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ پر مہر لگا دی ہوگی اور ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے، نہ اپنے دلوں کے راز چھپا سکیں گے اور نہ ہی اپنے اعمال کو جھٹلا سکیں گے۔
اس آیت میں کافروں اور رسولِ خدا ﷺ کی نافرمانی کرنے والوں کی بدترین حالت کا ذکر ہے۔ وہ اس دن ایسی ذلت و رسوائی کا سامنا کریں گے کہ انہیں موت اور مٹی میں مل جانا بھی آسان لگے گا، مگر وہاں سے نجات ممکن نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعضاء کو بولنے کی طاقت دے گا، ان کے ہاتھ، پاؤں اور جلد ان کے خلاف گواہی دیں گے، اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا سب ظاہر ہو جائے گا۔
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں اور ان کی سنت پر چلیں، کیونکہ یہی نجات کا راستہ ہے۔ جو شخص دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے، وہ آخرت میں اس قدر پشیمان ہوگا کہ وہ مٹی بن جانا پسند کرے گا، لیکن وہاں پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے اعمال کو سنواریں، اپنے دلوں کو پاک کریں، اور اپنے رب کے سامنے اس دن شرمندہ نہ ہوں۔ آمین۔
مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں پر مسح (کرکے تیمم) کرلو بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔