Wa qaala Fir`awnu zarooneee aqtul Moosaa walyad`u Rabbahoo inneee akhaafu ai yubaddila deenakum aw ai yuzhira fil ardil fasaad
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
فرعون گفت: بگذاريد موسى را بكشم و او خداى خود را به يارى طلبد. مىترسم دينتان را ديگرگون كند يا در اين سرزمين فسادى برانگيزد.
اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ذَرُونِي: مجھے چھوڑ دو، یعنی مجھے راستہ دو۔
أَقْتُلْ مُوسَىٰ: میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔
وَلْيَدْعُ رَبَّهُ: اور وہ اپنے رب کو پکارے (یعنی جو مدد کا دعویٰ کرتا ہے، وہ اپنے رب سے مدد مانگ لے)۔
يُبَدِّلَ دِينَكُمْ: تمہارے دین کو بدل دے۔
يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ: زمین میں فساد پھیلا دے۔
تفسیر:
فرعون نے اپنی قوم کے سرداروں اور معززین سے کہا: "مجھے چھوڑ دو، میں موسیٰ کو قتل کر دوں، اور وہ اپنے رب کو پکارے جس کے بارے میں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اسے رسول بنا کر بھیجا ہے۔" فرعون کا یہ انداز دراصل اپنی قوم کو یہ باور کروانا تھا کہ موسیٰ کا رب اسے بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میں موسیٰ کو قتل کرنے سے نہیں ڈرتا، چاہے وہ اپنے رب سے مدد مانگ لے۔
پھر فرعون نے اپنے اس اقدام کا جواز پیش کیا اور کہا: "مجھے ڈر ہے کہ موسیٰ تمہارے دین کو بدل دے گا جس پر تم قائم ہو، یا وہ زمین میں فساد پھیلا دے گا۔" اس کا مطلب یہ تھا کہ موسیٰ لوگوں کو تمہارے دین سے پھیر کر اپنے دین کی طرف لے جائے گا، اور اس کی وجہ سے تمہارے معاشرے میں انتشار اور بدامنی پھیل جائے گی۔ فرعون نے اپنے اس خوف کو بہانہ بنا کر موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، حالانکہ اصل مقصد تو یہ تھا کہ وہ اپنی بادشاہت اور اقتدار کو برقرار رکھنا چاہتا تھا، کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کا پیغام اس کے جھوٹے خدائی کے دعوے کو چیلنج کر رہا تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کے داعی کو ہمیشہ مخالفتوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے۔ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی دھمکی دی، لیکن اللہ نے اپنے نبی کو محفوظ رکھا اور آخر کار فرعون کو غرق کر کے عبرت کا نشان بنا دیا۔ یہ ہمارے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ ہم حق پر قائم رہیں، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اور وہ کبھی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب ہم اللہ پر بھروسہ کریں گے تو وہ ہمیں ہر مشکل سے نکالے گا، جیسا کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔
غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں
اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔