Falamuna jaaa`ahum bil haqqi min `indinaa qaaluq tulooo abnaaa`al lazeena aamanoo ma`ahoo wastahyoo nisaaa`ahum; wa maa kaidul kaafireena illaa fee dalaal
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون دين حق را از جانب ما بر آنها عرضه داشت، گفتند: پسران كسانى را كه به او ايمان آوردهاند بكشيد و زنانشان را زنده بگذاريد. و حيلهسازى كافران جز در طريق تباهى نباشد.
غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ: ان کی عورتوں کو زندہ رکھو (یعنی قتل نہ کرو، بلکہ انہیں خدمت اور لونڈی بنانے کے لیے باقی رکھو)۔
کَیْدُ: چال، تدبیر، منصوبہ۔
ضَلَالٍ: گمراہی، تباہی، بے نتیجہ۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون، ہامان اور قارون کے پاس ہمارے پاس سے واضح معجزات اور سچا دین لے کر آئے، تو ان ظالموں نے نہ صرف اس حق کو ماننے سے انکار کیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ظالمانہ حکم دیا کہ جو لوگ موسیٰ پر ایمان لائے ہیں، ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو تاکہ وہ تمہاری خدمت کریں اور ان کی نسلیں ختم ہو جائیں۔ یہ وہی پرانا ظالمانہ طریقہ تھا جو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے پہلے بھی اختیار کیا تھا کہ بنی اسرائیل کے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کر دیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کافروں کی یہ چالیں اور تدبیریں ہمیشہ گمراہی اور تباہی پر منتج ہوتی ہیں، ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ وہ جتنا بھی منصوبے بنائیں، اللہ کا فیصلہ ان کے منصوبوں پر غالب آتا ہے۔ یہ حکم دراصل ان کے خوف اور بے بسی کا اظہار تھا، کیونکہ حق کی روشنی پھیل رہی تھی اور وہ اسے روکنے سے قاصر تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ باطل کی طاقت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، وہ حق کے سامنے ہمیشہ بے بس اور ناکام رہتی ہے۔ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور ظالموں کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہ ہوں، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور کافروں کی تدبیریں ہمیشہ خاک میں مل جاتی ہیں۔ یہی وہ ایمان کی طاقت ہے جو فرعون جیسے ظالم کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ثابت قدم رکھتی تھی۔ آج بھی جو لوگ حق پر قائم رہتے ہیں، اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں
اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔